راجستھان کے شہر کوٹا کا نام بھارت میں صرف تعلیم اور کوچنگ انڈسٹری کے لیے ہی نہیں بلکہ طلبہ پر بڑھتے ذہنی دباؤ، خودکشیوں اور تعلیمی نظام کے مسائل کے حوالے سے بھی جانا جاتا ہے۔ ایسے ماحول میں راہل گاندھی کا کوٹا کا دورہ محض ایک سیاسی تقریب نہیں بلکہ ایک ایسا قدم ہے جس کے ذریعے کانگریس نوجوانوں، طلبہ اور متوسط طبقے کے خاندانوں کے مسائل کو قومی سیاسی بحث کا حصہ بنانے کی کوشش کر رہی ہے۔
سیاسی اعتبار سے دیکھا جائے تو یہ دورہ براہِ راست نریندر مودی حکومت کے لیے فوری خطرہ نہیں بنتا۔ بھارتیہ جنتا پارٹی اب بھی قومی سطح پر مضبوط تنظیمی ڈھانچے، وسائل اور قیادت کے اعتبار سے برتری رکھتی ہے۔ تاہم اصل سوال یہ نہیں کہ راہل گاندھی حکومت گرا سکتے ہیں یا نہیں، بلکہ یہ ہے کہ کیا وہ ایسے طبقات میں سیاسی بیانیہ تبدیل کر سکتے ہیں جو روزگار، تعلیم اور مستقبل کے حوالے سے بڑھتی ہوئی بے چینی محسوس کر رہے ہیں۔
کانگریس کی حکمت عملی گزشتہ چند برسوں سے شناختی سیاست کے بجائے معاشی اور سماجی مسائل پر توجہ مرکوز کرنے کی رہی ہے۔ بھارت جوڑو یاترا سے لے کر بے روزگاری، امتحانی بے ضابطگیوں اور طلبہ کے مسائل تک، راہل گاندھی مسلسل ایسے موضوعات اٹھا رہے ہیں جو نوجوان ووٹروں سے براہ راست جڑے ہوئے ہیں۔ کوٹا کا انتخاب بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی دکھائی دیتا ہے، کیونکہ یہاں لاکھوں طلبہ اپنے مستقبل کے خواب لے کر آتے ہیں جبکہ ناکامی، ذہنی دباؤ اور مسابقت کا دباؤ بھی اسی شہر سے وابستہ ہے۔
مودی حکومت کے لیے اصل چیلنج سیاسی نہیں بلکہ بیانیے کا ہو سکتا ہے۔ اگر اپوزیشن یہ تاثر قائم کرنے میں کامیاب ہو جائے کہ تعلیم، روزگار اور نوجوانوں کے مواقع جیسے مسائل حکومتی دعووں کے باوجود حل نہیں ہو رہے تو یہ طویل مدت میں بی جے پی کے لیے پریشانی کا باعث بن سکتا ہے۔ تاہم اس کے لیے کانگریس کو صرف علامتی دوروں سے آگے بڑھ کر قابلِ عمل پالیسی متبادل بھی پیش کرنا ہوں گے۔
دوسری جانب بی جے پی کے حامی یہ دلیل دیتے ہیں کہ راہل گاندھی کے دورے زیادہ تر علامتی سیاست کا حصہ ہوتے ہیں اور ان کے پاس مسائل کے حل کے لیے واضح روڈ میپ موجود نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ کئی عوامی مہمات اور دوروں کے باوجود کانگریس ابھی تک قومی سطح پر بی جے پی کا مکمل متبادل بننے میں کامیاب نہیں ہو سکی۔
نتیجتاً، راہل گاندھی کا ’کوٹا کوچ‘ مودی حکومت کے لیے فوری سیاسی خطرہ کم اور ایک نظریاتی و بیانیاتی چیلنج زیادہ ہے۔ اگر یہ دورہ نوجوانوں کے مسائل پر قومی بحث کو تیز کرتا ہے اور کانگریس اس بحث کو مستقل سیاسی مہم میں تبدیل کر پاتی ہے تو اس کے اثرات آنے والے انتخابات میں محسوس کیے جا سکتے ہیں۔ بصورت دیگر یہ دورہ بھی بھارتی سیاست کے ان متعدد علامتی اقدامات میں شمار ہوگا جو چند روز تک سرخیوں میں رہنے کے بعد پس منظر میں چلے جاتے ہیں۔








