مہاراشٹر کی سیاست ایک بار پھر بڑے سیاسی بھونچال کے دہانے پر دکھائی دے رہی ہے۔ شیو سینا (ادھو بالا صاحب ٹھاکرے) کے کم از کم چھ ارکانِ پارلیمنٹ کے ایکناتھ شندے کی قیادت والی شیو سینا میں شامل ہونے کی قیاس آرائیوں نے سیاسی حلقوں میں ہلچل مچا دی ہے۔ بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق "آپریشن ٹائیگر” نامی منصوبے کے تحت ادھو ٹھاکرے کے کئی اراکینِ پارلیمنٹ سے رابطے کیے گئے ہیں اور بعض اطلاعات میں دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ ان میں سے متعدد ارکان شندے دھڑے کے ساتھ جانے پر آمادہ ہیں۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب لوک سبھا میں شیو سینا (UBT) کے پاس نو ارکانِ پارلیمنٹ موجود ہیں۔ بھارتی قوانین کے تحت اگر دو تہائی یا اس سے زیادہ ارکان ایک ساتھ الگ گروپ بناتے ہیں تو نااہلی سے بچنے کا راستہ نکل سکتا ہے۔ سیاسی مبصرین کے مطابق یہی وجہ ہے کہ چھ یا سات ارکان کے ممکنہ انحراف کی خبریں غیر معمولی اہمیت اختیار کر گئی ہیں۔
اطلاعات کے مطابق شندے دھڑے کی جانب سے گزشتہ چند دنوں میں کئی پسِ پردہ رابطے اور ملاقاتیں کی گئی ہیں۔ بعض رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ یہ آپریشن اپنے آخری مرحلے میں داخل ہو چکا ہے اور جلد کوئی بڑا سیاسی اعلان سامنے آ سکتا ہے۔ تاہم ان دعوؤں کی آزادانہ طور پر مکمل تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔
دوسری جانب ادھو ٹھاکرے نے ان خبروں کے بعد فوری طور پر اپنے تمام ارکانِ پارلیمنٹ، اراکینِ اسمبلی اور قانون ساز کونسل کے اراکین کے اجلاس طلب کر لیے ہیں۔ شیو سینا (UBT) کے رہنماؤں سنجے راوت اور انیل دیسائی نے بغاوت کی خبروں کو مسترد کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ تمام نو ارکان پارٹی قیادت کے ساتھ کھڑے ہیں اور میڈیا میں چلنے والی اطلاعات محض افواہیں ہیں۔ پارٹی کے مطابق حالیہ اجلاس میں تمام ارکان نے براہِ راست یا آن لائن شرکت کر کے اپنی وفاداری کا اظہار کیا۔








