نئی دہلی (تعلیمی نمائندہ) — مئی کے مہینے میں ہونے والے نیٹ پیپر لیک تنازع اور ملک گیر احتجاج کے بعد، نیشنل ٹیسٹنگ ایجنسی نے آج اتوار (21 جون) کو ہونے والے دوبارہ امتحان کو شفاف بنانے کے لیے اب تک کی سب سے بڑی اور تاریخی سکیورٹی فورس تعینات کر دی ہے۔ ملک بھر کے تمام امتحانی مراکز کو ہائی الرٹ پر رکھا گیا ہے، جہاں ڈیجیٹل چیٹنگ اور بلوٹوتھ ڈیوائسز کا نام و نشان مٹانے کے لیے ریکارڈ 51,000 ہائی پاور جیمرز (Jammers) نصب کیے گئے ہیں۔
اس کے ساتھ ہی، انسانی غلطیوں اور لاپرواہی سے بچنے کے لیے پہلی بار امتحانی مراکز کے اندر اور باہر کا کنٹرول آرٹیفیشل انٹیلیجنس پر مبنی لائیو کیمروں کے حوالے کر دیا گیا ہے۔
51 ہزار جیمرز اور 5G نیٹ ورک بلاکیڈ
این ٹی اے (NTA) کے ترجمان کے مطابق، ماضی کے امتحانات میں ٹیلی گرام گروپس اور جدید الیکٹرانک ڈیوائسز کے ذریعے ہونے والی دھاندلی کو روکنے کے لیے اس بار کوئی کسر نہیں چھوڑی گئی ہے۔ امتحانی ہالز کے اندر 5G، 4G اور تمام لوکل سگنلز کو مکمل طور پر جام کرنے کے لیے 51,000 جیمرز فعال کیے جا چکے ہیں۔ امتحان شروع ہونے سے 2 گھنٹے پہلے ہی امتحانی مراکز کے اطراف کے 500 میٹر کے علاقے میں موبائل نیٹ ورک ڈاؤن کر دیا گیا ہے۔
آرٹیفیشل انٹیلیجنس (AI) کے ذریعے لائیو مانیٹرنگ
سیکیورٹی کو جدید ترین بناتے ہوئے، دہلی میں قائم این ٹی اے کے مرکزی کنٹرول روم سے ملک کے تمام سینٹرز کو براہِ راست مانیٹر کیا جا رہا ہے۔ امتحانی ہالز میں لگے کیمرے AI Face Recognition (چہرہ پہچاننے والی ٹیکنالوجی) سے لیس ہیں۔ اگر کوئی بھی طالب علم یا امتحانی عملے کا رکن مشکوک حرکت کرتا ہے، یا کسی دوسرے کی جگہ امتحان دینے کی کوشش کرتا ہے، تو AI سسٹم فورس کو فوری طور پر الرٹ جاری کر دیتا ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ حالیہ امتحانی تنازعات اور شفافیت سے متعلق خدشات کے پیش نظر اس بار سکیورٹی کے معیار کو مزید سخت بنایا گیا ہے۔ ماہرین کے مطابق AI نگرانی اور جدید ٹیکنالوجی کے استعمال سے امتحانی نظام پر اعتماد بحال کرنے میں مدد مل سکتی ہے، جبکہ طلبہ اور والدین کو بھی شفاف اور منصفانہ امتحانی عمل کی یقین دہانی کرائی جا رہی ہے۔










