احمد آباد: گجرات ہائی کورٹ نے ایک اہم فیصلے میں قرار دیا ہے کہ امتحان کے دوران سوالیہ پرچے کی تصویر کھینچ کر واٹس ایپ پر بھیجنا، بذاتِ خود، انفارمیشن ٹیکنالوجی (آئی ٹی) ایکٹ کی دفعہ 66E کے تحت رازداری (Privacy) کی خلاف ورزی نہیں ہے۔ جسٹس پی ایم راول نے 16 جون کو ایک مقدمے کی سماعت کے دوران یہ ریمارکس دیے اور دو ملزمان کی ایف آئی آر منسوخ کرنے کی درخواست جزوی طور پر منظور کر لی۔
یہ مقدمہ سال 2018 کا ہے، جب ایک امیدوار پر الزام لگایا گیا تھا کہ اس نے امتحان کے دوران موبائل فون کا استعمال کرتے ہوئے سوالیہ پرچے کی تصاویر کھینچیں اور انہیں واٹس ایپ کے ذریعے کسی دوسرے شخص کو بھیج دیا۔ امتحانی کنٹرولر کی شکایت پر امیدوار اور ایک دوسرے شخص کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا تھا۔
ہائی کورٹ کی اہم آبزرویشن: "سوالیہ پرچہ نجی ڈیٹا نہیں "
عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ سوالیہ پرچے کی تصویر واٹس ایپ پر بھیجنے کا عمل آئی ٹی ایکٹ کی دفعہ 66E کے دائرۂ کار میں نہیں آتا، کیونکہ یہ دفعہ کسی فرد کی نجی یا ذاتی رازداری کے تحفظ سے متعلق ہے، جبکہ سوالیہ پرچہ اس تعریف میں شامل نہیں ہوتا۔ تاہم عدالت نے یہ بھی واضح کیا کہ اگر امتحانی ضابطوں یا دیگر متعلقہ قوانین کی خلاف ورزی ہوئی ہو تو ان کے تحت کارروائی کی جا سکتی ہے۔








