ممبئی :
’سلی فار سیل‘ نام سے ایک اوپن سورس ویب سائٹ بنائی گئی ، جس پر مسلم خواتین کے ٹوئٹر ہینڈلز سے جانکاریاں اور تصا ویر نکال کر ڈالی گئیں اور انہیں عوامی طور پر نیلام کیا گیا، جسے ’سلی ڈیل‘ کہا گیا ہے ۔
حالانکہ شکایت کے بعد یہ ویب سائٹ بند کردی گئی ہے اور فی الحال اسے ایکسس نہیں کیا جا سکتا ہے ، مگر ’سلی فار سیل‘ اور ’سلی ڈیل‘ کے ذریعہ مسلم خاتون صحافیوں، کارکنان ، فنکاروں اور محققین کو نشانہ بنایا گیا ہے ۔
انہیں اس کے ذریعہ ٹرول کیا گیا ہے ، ان کی تصاویر نیلام کی گئی ہیں ، ٹوئٹر ہینڈل و دوسری ذاتی جانکاریاں عوامی کی گئی ہیں اور ان کے لیے ’سیلی ‘ جیسے توہین آمیز الفاظ کا استعمال کیا گیا ہے ۔
گزشتہ اتوار اور پیر کو ، ایک اوپن سورس ایپ بنایا گیا، ’سیلی فار سیل‘ ، اس پر کئی سوشل میڈیا سے اٹھاگئی مسلم خواتین کی تصاویر ڈالی گئیں۔
‘’ملی‘ کی تبدیل شدہ شکل ہے ’سلی‘ اور یہ دونوں ہی مسلم خواتین کے لئے استعمال ہونے والے توہین آمیز الفاظ ہیں۔ ان الفاظ کا استعمام ہندوستان میں خاص طور پر ہندی پٹی میں کیا جاتا ہے ۔
اس میں 80 سے زائد خواتین کی تصاویر ، ان کے نام اور ٹویٹر ہینڈل دیئے گئے تھے۔اس ایپ میں سب سے اوپر لکھا تھا -’فائنڈ یور سیلی ڈیل‘۔اس پر کلک کرنے پر ایک مسلم خاتون کی تصویر ، ان کا نام اور ٹوئٹر ہینڈل سے متعلق معلومات یوزر کے ساتھ شیئر کی جارہی تھیں۔
اوپن سورس ایپ
بی بی سی کے مطابق ’ سلی فار سیل‘ اوپن سورس ایپ گٹ ہب پر بنایا گیا تھا۔ گٹ ہب نے اسے پیر کو ہٹا دیا۔ گٹ ہب نے بی بی سی کو بتایا ،’ہم نے اس معاملے میں یوزر کا اکاؤنٹ سسپینڈ کردیاہے۔ رپورٹس کی بنیاد پر اس معاملے کی جانچ شروع کردی گئی ہے۔ گٹ ہب کی پالیسیاں ایسے مواد ، جو ہراساں کرنے، امتیازی سلوک اور تشددکو فروغ دیتے ہیں ان کے خلاف ہیں۔ یہ مواد ہماری پالیسیوں کی خلاف ورزی کرتا ہے۔ گٹ ہب کی سی او او ایریکا بریسیا نے ٹویٹ کرکے کہا ہے کہ اس اکاؤنٹ کو سسپنڈ کیا جا چکا ہے، لیکن انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ آخر یہ سب ہوا کیسے۔
وومین کمیشن کو شکایت
وومین اگینسٹ وائلینس اینڈ ایکسپلوٹیشن ‘نامی ایک تنظیم نے دہلی کمیشن برائے خواتین سے شکایت کی اور امید ظاہر کی ہے کہ قصورواروں کے خلاف کارروائی کی جائے گی اور مسلم خواتین محفوظ رہیں گی۔
وومین کمیشن کا سخت موقف
دہلی کمیشن برائے خواتین نے اس پر سخت موقف اختیار کیا ہے۔ کمیشن کی چیئرپرسن سواتی مالیوال نے اس پر دہلی پولیس کو نوٹس جاری کیا ہے۔ انہوں نے اس کو ’ایک سنگین سائبر کرائم‘ قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ ‘’کچھ مسلم خواتین کی بغیر اجازت ان کی تصاویر اور ذاتی معلومات سوشل میڈیا پلیٹ فارم سے اٹھا کر اس پر شیئر کی گئی ہیں جو غلط و غیرقانونی ہے۔
اس نوٹس میںایف آئی آر درج کرنے، تفصیلی جانچ کرنے اور اس کی پوری جانکاری دہلی وومین کمیشن سے شیئر کرنے کو بھی کہا گیاہے۔
ایڈیٹرز گلڈ آف انڈیا نے بھی اسے سنجیدگی سے لیا ہے۔ اس نے ایک پریس بیان میں کہا ہے کہ ‘کچھ مسلم خواتین صحافیوں اور دوسرے پیشے سے منسلک خواتین کی تصاویر ویب سائٹ پر اپ لوڈ کی گئیں ہیں اور ان کے لئے توہین آمیز الفاظ استعمال کیے گئے ہیں۔ دہلی فسادات 2020 کی رپورٹنگ کرنے والی خاتون صحافی فاطمہ خان کو نشانہ بنایا گیا ہے۔
ایڈیٹرز گلڈ نے کہا ہے کہ ‘یہ نہ صرف معاشرے کے کچھ طبقے میں خواتین مخالف رویوں کی عکاسی کرتا ہے ، بلکہ اس سے مسلمانوں کو نشانہ بنانا اور خاص طور پر جو حکومت پر تنقید کرتے ہیں انہیں ہراساں کرنا بھی ظاہر ہوتا ہے۔
پریشان مسلمان خواتین
مسلم خواتین اس سارے معاملے سے کتنی پریشان ہیں ، اس کا اندازہ فاطمہ خان کے ٹویٹ سے لگایا جاسکتا ہے۔ انہوں نے لکھا ،’ ‘صبح کی نیند سے بیدار ہوئی تو اپنا اور کچھ دوسری مسلم خواتین کے نام گٹ ہب پر ’سلی فار سیل ‘کی فہرست میں شامل پایا ۔ یہ اچھا ہے کہ اسے ہٹا لیا گیا ہے ، مگر اس کے اسکرین شاٹ سے ہی جسم میں لرزہ دوڑ گئی۔‘
سلی فار سیل کی شکار ثانیہ احمد نے ٹویٹ کیا ، ’دو رات تک سو نہیں پائی، اب راحت کی سانس لے رہی ہوں، مگر ہم انہیں چھوڑیں گے نہیں اور اپنی زندگی کا یہ ہدف بنا لیں گے کہ وہ جیل کی سلاخوں کے پیچھے سڑتے رہیں۔ انہیں اس کی قیمت چکانی ہی ہوگی، یہ وعدہ ہے۔‘
سلی فار سیل کی ایک اور شکار عائشہ سلطانہ نے ٹویٹ کیا ، ‘’ہمیں توقع نہیں تھی کہ یہ نارنگی والے اتنانیچے گر جائیں گے ۔ میں یہ امید رکھنای چاہتی تھی کہ ان کافروں میں کچھ انسانیت بچی رہی ہوگی۔
ممبئی پولیس کی تفتیش
دہلی پولیس کے ساتھ ہی ممبئی پولیس نے بھی اس معاملے کی تفتیش شروع کردی ہے۔ ’سیلی فار سیل ‘کے ذریعہ ہراساں کی گئی ممبئی کی رہنے والی فاطمہ نے5 جولائی کو ساکی ناکہ پولیس اسٹیشن میں شکایت درج کرائی ہے۔ساکی ناکہ پولیس اسٹیشن نے ٹوئٹر انڈیا اور گٹ ہب کو لیٹر لکھ کر ایپ بنانے والے اور اسے ٹوئٹر پر شیئر کرنے والوں کی جانکاری مانگی ہے ۔
ممبئی پولیس نے گیٹ ہب سے آئی پی ایڈریس ، لوکیشن اور ایپ کب بناہے۔ اس کی جانکاری بھی مانگی ہے ۔ اس کے ساتھ ہی ایپ بنانے میں استعمال ہونےوالا ای میل آئی ڈی اور فون نمبر بھی مانگا گیا ہے۔ممبئی پولیس نے ٹویٹر سے کچھ قابل اعتراض ٹویٹس ڈیلیٹ کرنے اور اسے ہینڈل کو چلانے والے لوگوں کا ڈیٹا بھی مانگا ہے ۔
کیا ہوتا ہے اوپن سورس پلیٹ فارم ؟
اوپن سورس پلیٹ فارم میں کوڈ کو عوامی کردیا جاتاہے ، اس میں الگ الگ کمیونٹیز کے کوڈر کوڈ کے ذریعہ نئے فیچر جوڑ سکتے ہیں ،بگ ہٹا سکتے ہیں۔ کوڈ کے ذریعہ کی گئی تبدیلی ایپ پردکھ سکتے ہیں ، اور انہیں بھی دکھا سکتے ہیں ، مگر اس کا کنٹرول ایپ ڈیزائن کرنے والے کے پاس ہی ہوتا ہے ۔ اگر یہ کوڈ ایپ ڈیزائن کرنے والے کے پاس سے ڈیلیٹ ہوجائے، تو اس ایپ سے منسلک تمام جانکاریاں ڈومین نیم سسٹم پروائڈر کے پاس ہوتا ہے ۔










