لندن — برطانیہ کی سیاست اس وقت شدید ترین تاریخی بحران کا شکار ہو گئی ہے۔ برطانوی وزیرِ اعظم کیئر اسٹارمر ( نے اپنی ہی جماعت، لیبر پارٹی کے اندر فرنٹ بینچرز اور درجنوں اراکینِ پارلیمنٹ کی اچانک اور شدید ترین بغاوت (Mega Revolt) کے سامنے گھٹنے ٹیکتے ہوئے اپنے عہدے سے استعفیٰ دینے کا باقاعدہ اعلان کر دیا ہے۔ ڈاؤننگ اسٹریٹ سے جاری ہونے والے ہنگامی بیان میں وزیرِ اعظم نے تصدیق کی ہے کہ وہ آنے والے پیر کو بادشاہ چارلس سوم کو اپنا استعفیٰ پیش کر کے عہدہ چھوڑ دیں گے۔
استعفے کی اصل وجہ: لیبر پارٹی کے اندر ‘میگا بغاوت’
ذرائع کے مطابق، کیئر اسٹارمر کے خلاف یہ بغاوت گزشتہ کئی ہفتوں سے جاری معاشی پالیسیوں، ٹیکسوں میں اضافے اور خارجہ امور کے فیصلوں پر پارٹی کے اندرونی اختلافات کا نتیجہ ہے۔ گزشتہ رات لیبر پارٹی کے سینیئر وزراء اور ارکانِ پارلیمنٹ کے ایک بڑے دھڑے نے وزیرِ اعظم کو الٹی میٹم دیا تھا کہ وہ اب پارلیمنٹ میں ان کی قیادت پر بھروسہ نہیں کرتے۔
پارٹی کے اندرونی ذرائع کا کہنا ہے کہ کیئر اسٹارمر نے نمبر گیم اپنے خلاف جاتے ہوئے دیکھ کر خود ہی باوقار طریقے سے پیچھے ہٹنے کا فیصلہ کیا۔ انہوں نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے مختصر کہا:
"میں نے ہمیشہ ملک اور پارٹی کے مفاد کو آگے رکھا ہے۔ چونکہ اب پارٹی کو ایک نئی سمت کی ضرورت ہے، اس لیے میں پیر کے روز اپنے عہدے سے سبکدوش ہو جاؤں گا تاکہ نئے قائد کا انتخاب کیا جا سکے۔”










