اسلام آباد: امریکا اور ایران کے درمیان مجوزہ امن معاہدے اور جنگ بندی سے متعلق مذاکرات کے سلسلے میں سوئٹزرلینڈ میں ہونے والے سفارتی رابطوں میں پاکستان بھی اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ اطلاعات کے مطابق پاکستانی وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر مذاکراتی عمل میں شریک ہونے والے اہم رہنماؤں میں شامل ہیں، جبکہ پاکستان خود کو دونوں ممالک کے درمیان ثالثی کرنے والے فریق کے طور پر پیش کر رہا ہے۔
پاکستان کا کردار: ‘تہران اور واشنگٹن کے درمیان پل’
ماہرینِ خارجہ امور کا کہنا ہے کہ گزشتہ روز جب ایرانی صدر مسعود پزشکیان اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ‘سوئٹزرلینڈ ڈیل’ اس وقت خطرے میں پڑ گئی جب ایران نے امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کے دورہ منسوخی کے جواب میں آبنائے ہرمز سیل کر دیا، تو سوئس حکام نے دونوں ممالک کے ساتھ اچھے تعلقات رکھنے والے ملک ‘پاکستان’ سے ثالثی کے لیے رابطہ کیا۔
پاکستان کا ایران کے ساتھ برادرانہ اور طویل سرحدی تعلق ہے، جبکہ امریکی انتظامیہ کے ساتھ بھی پاکستانی عسکری اور سیاسی قیادت کے مضبوط روابط ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ آرمی چیف اور وزیرِ اعظم دونوں جنیوا میں امریکی حکام اور ایرانی سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل کے نمائندوں کے ساتھ بیک وقت الگ الگ ملاقاتیں کر رہے ہیں تاکہ آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھلوایا جا سکے اور خطے کو جنگ سے بچایا جا سکے۔
مذاکرات کے اہم نکات: انشورنس اور سیز فائر پر ڈیڈ لاک
باوثوق ذرائع کے مطابق، سوئٹزرلینڈ میں اس وقت تین اہم ترین نکات پر بحث جاری ہے جن پر پاکستان دونوں فریقین کو راضی کرنے کی کوشش کر رہا ہے:
- آبنائے ہرمز کھولنا: پاکستان ایران کو انشورنس اور 48 گھنٹے ایڈوانس نوٹس کی سخت شرط میں نرمی لانے پر آمادہ کر رہا ہے تاکہ عالمی تیل کی سپلائی بحال ہو سکے۔
- لبنان سیز فائر: ایران کا مطالبہ ہے کہ امریکہ اسرائیل پر دباؤ ڈال کر جنوبی لبنان پر بمباری فوری رکواائے، جس پر امریکی وفد سے بات چیت جاری ہے۔
- پابندیوں کا خاتمہ: عبوری معاہدے کے تحت ایران کو ملنے والی معاشی راحت اور بینکنگ چینلز کی بحالی کی تفصیلات پر دوبارہ نظر ثانی کی جا رہی ہے۔










