لکھنؤ :
گزشتہ سال نومبر میںلاگو ہونے کے بعد سے اترپردیش کے متنازع اترپردیش دھرم پریورتن ورودھی قانون 2020 (لو جہاد لاء ) کے تحت یوپی پولیس نے جون 2021 تک کل 63 معاملے درج کئے ہیں۔ ان میں سے ایک معاملے میں بھی اب تک قصور وار ثابت نہیں ہو ا ہے ۔ وہیں سات معاملے میں الزام ثابت نہیں کرنے پر پولیس نے خود کیس بند کردیا۔ اعداد وشمارسے معلوم ہوتا ہے کہ اس قانون کے تحت سب سے زیادہ معاملے میرٹھ زون میں درج کئے گئے ۔
جولائی میں یوپی پولیس نے پہلے ہی دو نئے معاملے درج کرچکیہے ،جس میں ایک پیلی بھیت میں اور دوسرا آگرہ میں ہے۔ دسمبر 2020 سے جون 2021 کے درمیان میرٹھ زون کے آٹھ اضلاع میں سب سے زیادہ 16 معاملے اور بریلی ز ون کے الگ الگ ضلع میں 15 معاملے درج کئے گئے ہیں۔
یہ قانون جو ’ لو جہاد‘ کی مبینہ سازش سے نمٹنے کا دعویٰ کرتاہے ، رائٹ – ونگ کا ایک قرار داد ہے ، جس کا کہنا ہے کہ ہندو خواتین کا جبراً مذہب تبدیل کیا جارہا ہے ، اس قانون کے تحت قصور وار پائے جانے پر 10 سال تک کی جیل کی سزا کا التزام ہے ۔
دی کوئنٹ کی رپورٹ کے مطابق اترپردیش پولیس کے اے ڈی جی (لاء اینڈ آرڈر) کے آفس سے موصولہ ڈیٹا اور اعداد وشمار کے مطابق قانون کے لاگو ہونے کے سات مہینے بعد ، ریاست بھر میں درج ان 63 معاملوں میں 162 مشتبہ لوگوں کے خلاف کیس درج کیا گیا ہے ۔
درج تمام معاملوں میں پولیس نے 31 معاملوں میں چارج شیٹ داخل کی ہے اور 25 معاملوں میں جانچ جاری ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اعداد وشمار کے مطابق شکایت میں الزام لگانے کے لیے کافی ثبوت نہیں ملنے کے بعد پولیس نے سات معاملوں میں حتمی رپورٹ درج کی ۔ انہی شکایات کی بنیاد پر ایف آئی آر درج کی گئی تھی۔
دریں اثناء انسداد تبدیلی مذہب ایکٹ کے تحت گرفتار 162 لوگوں میں سے 101 کو جیل بھیج دیا گیا۔ بعدمیں ان میں سے 21 کو ضمانت مل گئی ،جبکہ 80 ابھی بھی جانچ یا مقدمے کے انتظار میں سلاخوں کے پیچھے ہیں۔ اعدادوشمار سے معلوم ہوتاہے کہ ان معاملوں میں 21 ملزمین فرار ہیں۔
ریاست میں جبراًتبدیلی مذہب کے معاملوں پر یکم جولائی کو چارج سنبھالنے والے پولیس ڈائریکٹر جنرل مکل گوئل نے کہاکہ ’قصور وار کو بخشا نہیں جائے گا اور بے قصور کو پریشان نہیں کیا جائے گا۔‘










