نئی دہلی:
اقلیتو ںکے فلاح وبہبود کے لیے مرکز ی سرکار کی جانب سے دیئے جانے والے ہزارو ں کروڑ روپے کے گرانٹ پر سپریم کورٹ نے مرکز سے ایک ہفتہ میں جواب طلب کیاہے ۔ اس طرح کے گرانٹ کو غیر آئینی بتانے والی عرضی پر کورٹ نے مرکز ی سرکار سے جنوری 2020 میں جواب مانگا تھا، لیکن اب تک سرکار نے حلف نامہ داخل نہیں کیا ہے ۔
نیرج شنکر سکسینہ سمیت 6 لوگوںکی جانب سے 2019 میں دائر اس درخواست میں ، مرکزکی طرف سے اقلیتوں کے لیے 14 خصوصی اسکیمیں چلانے کو غلط بتایا گیا ہے، درخواست میں کہا گیا ہے کہ ان اسکیموں کے لیے سرکاری خزانہ سے 4,700کروڑ روپے کا بجٹ رکھا گیا ہے ، اس کا کوئی التزام آئین میں نہیں ہے ۔
آئین کے آرٹیکل 29 اور 30 میں اقلیتوں کو اپنے لئے تعلیمی ادارے اور دیگر ادارے قائم کرنے کا حق دیا گیا ہے، لیکن آئین میں یہ نہیں لکھا گیا ہے کہ حکومت اس کے لئے رقم دے گی۔ ادارے بنانا اور چلانا اقلیتوں کو اپنے آپ کرنا چاہئے۔
وکیل وشنو جین کے توسط سے دائر درخواست میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ آئین کا آرٹیکل 27 اس بات سے منع کرتی ہے کہ ٹیکس دہندگان سے لیا گیا پیسہ سرکار کسی خاص مذہب کو فروغ دینا کے لیے خرچ کرے، لیکن سرکار وقف جائیداد کی تعمیر سے لے کر اقلیتی طبقے کے طلبہ ، خواتین کی ترقی کے نام پر ہزاروں کروڑ روپے خرچ کررہی ہے ۔ یہ اکثریتی طبقے کے طلبہ اور خواتین کے مساوات کے بنیاد حقوق کی خلاف ورزی ہے ۔
درخواست گزار کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہپچھلی سماعت کے بعد ڈیڑھ سال گزر جانے کے باوجود حکومت نے ابھی تک جواب داخل نہیں کیا ہے۔ اس پر اٹارنی جنرل کے کے وینوگوپال نے ایک ہفتہ میں جواب داخل کرنے کی بات کہی۔ جسٹس روہنٹن نریمن کی سربراہی والی بنچ نے اس کی اجازت دے دی۔ معاملے پر اگلی سماعت 23 جولائی کو ہونے کا امکان ہے۔










