نئی دہلی :
آرگنائزیشن آف اسلامک کوآپریشن(او آئی سی) نےہندوستانی مسلمانوں کو نشانہ پر لینے کے واقعات پر شدید رد عمل کااظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ وہ ایک نمائندہ وفد جموں وکشمیر بھیجے گی جو وہاں کی زمینی صورت حال کا جائزہ لے کر رپورٹ سونپے گا۔
اس سے یہ بھی صاف ہوتا ہے کہ ہندوستانی مسلمانوں کے ساتھ ہونےوالےسلوکوں سے بیرون ملک ہندوستان کی شبیہ خراب ہو رہی ہے اور خاص کر مسلم ممالک اس سے زیادہ فکر مند ہیں۔
سعودی عرب میں ہندوستانی سفیر اوصاف سعید نے گزشتہ دنوں جہاد میں او آئی سی جدہ میں او آئی سی کے جنرل سکریٹری یوسف الاثمین سے ملاقات کی تھی تو یہ مسئلہ اٹھا تھا۔
آرگنائزیشن آف اسلامک کوآپریشن نے بعد میں ایک پریس ریلیز میں کہاکہ ’ سفیر سعید اور جنرل سکریٹری یوسف الاثمین کے مابین بات چیت میں ہندوستانی مسلمانوں سے جڑے کئی مسائل پر بات ہوئی۔ اس میں جموں وکشمیر اور او آئی سی کی تجاویز اور کسی فریق کی جانب سے یکطرفہ کارروائی نہیں کرنے کی بات کہی گئی ۔
یاد رہے کہ دو سال قبل اس وقت کی بھارتیہ وزیر خارجہ سشما سوراج نے او آئی سی کانفرنس میں حصہ لیا تھا۔ ہندوستان اس تنظیم کا ممبر نہیں ہے۔ اس تنظیم کے اجلاس میں شریک ہونے والی سوراج پہلی غیر مسلم اور پہلی خاتون تھیں۔ اسے ہندوستان کے لئے ایک بڑی سفارتی فتح کے طور پر دیکھا گیاتھا۔










