سری نگر:
جموں وکشمیر میں آرٹیکل 370 ہٹنے کے بعد ایک طرف کچھ لیڈروں کا گروپ اسے بحال کرنے کی مانگ کررہاہے تو دوسری طرف سرکار یہاں پر انتخابی عمل کو آسان بنانے کی ہر ممکن کوشش کررہی ہے ۔ اب حد بندی کمیشن نے اطلاع دی ہے کہ یہاں اسمبلی حلقے کی سات سیٹیں بڑھائی جائیں گی ۔ اس کے بعدکل سیٹیں 90 ہو جائیں گی۔ یہ پورا کام 2011 کی مردم شماری کے مطابق کیاجائےگا اور عمل مارچ 2022 تک مکمل ہوجائے گا۔
حد بندی کمیشن کی طرف سے پریس کانفرنس میں دی گئی جانکاری کے مطابق حدبندی کا ڈارفٹ بنا کر اسے عوام کے سامنے رکھا جائے گا۔ اس کے بعد عوام کی تجاویز کو شامل کرتے ہوئے ایک فائنل ڈرافٹ تیار کیاجائے گا۔ جموں وکشمیر میں حد بندی کمیشن کی صدر رنجنا دیسائی نے بتایا کہ ایک آئینی عمل ہے اور حد بندی ایکٹ کے تحت یہ عمل چل رہاہے ۔
پاکستان کے مقبوضہ وکشمیر میں 24 سیٹیں خالی ہیں ، لیکن حد بندی کمیشن نے کہا ہے کہ ابھی اس پر کوئی ایکشن نہیں لیا جا رہا ہے ۔ بی جے پی کے ایک نمائندہ وفدنے ان 24 سیٹوں کو بھی غیرمستحکم کرنے کی مانگ کی تھی۔
اس کے علاوہ بی جے پی کی جموں وکشمیر اکائی نے حد بندی کمیشن سے ملاقات کرکے کشمیری پنڈتوں ، ایس سی اور ایس ٹی و بے گھرلوگوں کے لیے ریزرویشن کی بھی مانگ رکھی تھی۔
چیف الیکشن کمشنر سشیل چندر نے اس معاملے میں کہا کہ حد بندی ایک پیچیدہ عمل ہے۔ انہوں نے کہا کہ انتخابی حلقوں کا ڈیٹا اکٹھا کیا جارہا ہے۔ ڈی او اور ڈی سی کے ساتھ ورچوئل میٹنگ بھی کی گئی ہے ۔ انہوں نے کہاکہ الگ الگ مقامات کا دورہ کیا اور لوگوں نے اس قدم پر خوشی کااظہار کیا۔ انہوں نے کہاکہ مکمل کام شفاف اور منصفانہ انداز میں کیا جائے گا۔ یہاں اب 20 ضلع اور 270 تحصیلیں ہیں۔










