نئی دہلی :
دہلی ہائی کورٹ نے جمعہ کے روز اسٹوڈنٹ ایکٹیویسٹ گلفشاں فاطمہ کی طرف سے دائر عرضی کو خارج کرتے ہوئے کہاکہ یہ پوری طرح غلط ہے اور سماعت کے قابل نہیں ہے۔ عرضی میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ دہلی فساد معاملے میں فاطمہ کو تحویل میں لینا غیر قانونی ہے ۔
خبر رساں ادارہ پی ٹی آئی کے مطابق جسٹس وپن سانگی اور جسٹس جسسمیت سنگھ کی بنچ نے کہا کہ حبس کارپس کی رٹ کسی ایسے شخص کے حوالے سے دائر نہیں کی جاتی جو عدالتی تحویل میں ہے۔ حبس کارپس کی عرضی اس شخص کو پیش کرنے کی ہدایت دینے کے لیے دائر کی جاتی ہے جو لاپتہ ہے یا غیر قانونی تحویل میں ہے ۔
بنچ نے کہا ، ’حقائق یہ ہے کہ درخواست گزار عدالتی تحویل میں ہے ، لہٰذا اسے غیر قانونی نہیں کہا جاسکتا۔‘ عدالت نے کہا کہ اگر فاطمہ ٹرائل کورٹ کی عدالتی کارروائی میں عدالت کے ذریعہ صادر حکم سے غیر مطمئن ہیں تو ان کے پاس قانونی عدالت کے سامنے اسے چیلنج دینے کا قانونی حیثیتہے۔
فاطمہ نے حبس کارپس درخواست میں دعویٰ کیا تھا کہ غیرقانونی سرگرمیاں (روک تھام) ایکٹ (یو اے پی اے) کے تحت ان کو حراست میں لینا غیر قانونی ہے اور ان کو رہا کیاجانا چاہئے۔ یہ معاملہ مبینہ بڑی سازش سے جڑا ہے جس کے سبب گزشتہ سال شمال مشرقی دہلی میں فساد ات ہوئے۔
سماعت کے دوران بنچ نے فاطمہ کی پیروی کرنے والے وکیل جیت بھٹ سے پوچھا کہ کیا وہ عرضی واپس لینا چاہتےہیں ، کیونکہ اس کا ماننا ہے کہ حبس کارپس عرضی اس معاملے میں سماعت کے قابل نہیں ہے ، اس پر وکیل نے کہاکہ انہیں عرضی واپس لینے کی ہدایت نہیں دی گئی ہے ۔
دہلی پولیس کی جانب سے پیش وکیل امت مہاجن نے کہاکہ فاطمہ کے ذریعہ دائر حبس کارپس عرضی قابل سماعت نہیں ہے اور یہ قانون کے عمل کا غلط استعمال ہے اور اسے خارج کیاجاناچاہئے۔










