نئی دہلی :
2017 میں اپنی ماں کا قتل کرنے اور پھر ان کے دل، گردے اور آنتیں نکال کر اس میں نمک -مرچ لگا کر کھانے والے شخص کو مقامی عدالت نے موت کی سزا سنائی ۔ مہاراشٹر کے کولہاپور کی ایک عدالت نے ماں کے بہیمانہ قتل کےمعاملے میں 35 سالہ شخص کو موت کی سزا سنائی ہے ۔ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج مہیش جادھو نے اسے ساز نادر معاملہ بتایا اور سنیل کوچیکوروی کو سزائے موت سنایا۔ سزا سناتے ہوئے جسٹس جادھو نے کہاکہ ایسا گھناؤنای واقعہ آج تک دیکھنے کو نہیں ملا ہے ۔ اس لئے ملزم کو سخت سے سخت سزا ملنی چاہئے ۔
استغاثہ کے مطابق اس نے اپنی 62 سالہ ماں کاقتل کیا اور ان کی لاش کو چیر کر سارے اعضا نکال لئے۔ اس کے بہیمانہ قتل ہونے کا شبہ تھا۔ کیونکہ جب ملزم پکڑا گیا تھا تو اس کی ماں کے اعضا رسوئی میں نمک ،تیل اور مرچ پاؤڈر لگے ہوئے پائے گئے تھے اور اس کے منھ میں خون تھا۔ بعد میں اس نے ماں کے اعضا کو کھانے کی بات قبول بھی کی۔ سرکاری وکیل ویویک شکلا نے بتایا کہ یہ واقعہ 28 اگست 2017 کو پیش آیا۔ سنیل کوچیکوروی واقعے کے بعد سے ہی جیل میں بند تھا۔ تاہم ، اس کے پاس اب بھی اس سزا کے خلاف اپیل کرنے کے بہت سارے اختیارات ہیں۔
دراصل کوچیکوروی شراب کا عادی تھا۔ واقعہ کے دن اس نے اپنی ماں سے شراب خریدنے کے لئے کچھ پیسے مانگ تھے اور جب ماں نے منع کیا تو اس نے دھاردار ہتھیار سے اس کا قتل کردیا۔ اس کے بعد ملزم نے اس کے جسم کے دہانے حصے کو چیر دیا اور دل ، گردے، آنتوں اور دیگر اعضا کو نکال کر کچن کے پلیٹ فارم پر رکھ دیا تھا۔ معاملے میں کم سے کم 12 گواہوں سے پوچھ گچھ کی گئی اور چونکہ چشم دید گواہ نہیں تھا ، اس لئے عدالت نے حالات کے ثبوت کی بنا پر کوچیکوروی کو قصور وار قرار دیا۔ عدالت نے معاملے کو سازونادر بتاتے ہوئے اسے موت کی سزا سنائی۔










