نئی دہلی:
سپریم کورٹ نے جمعہ کے روز اترپردیش سرکار سے کہاکہ وہ ریاست میں شہریت ترمیمی قانون ( سی اے اے ) کے خلاف تحریک کے دوران سرکاری جائیداد کو ہوئے نقصان کی بھرپائی کے لیے مبینہ مظاہرین کو ضلع انتظامیہ کے ذریعہ پہلے بھیجے گئے نوٹس پر کارروائی نہیں کرے۔
عدالت عظمیٰ نے حالانکہ کہا کہ ریاستی قانون کے مطابق اور نئے قوانین کے تحت کارروائی کر سکتاہے ۔ جسٹس ڈی وائی چندر چوڑ اور جسٹس ایم آر شاہ کی بنچ نے کہاکہ پہلے کے نوٹس کے مطابق کارروائی نہیں کریں، تمام کارروائی نئے قوانین کے مطابق ہونی شاہئے۔ ‘
اترپردیش کی جانب سے پیش سینئر ایڈیشنل سالیسٹر جنرل گریما پرساد نے کہاکہ سماعت کی آخری تاریخ کے بعد سے ریاست آگے بڑھی ہے اور ٹریبونلز تشکیل دئے گئے ہیں ۔ بنچ نے پرساد کو قوانین اور تشکیل ٹریبونلز کی تفصیلات کے ساتھ ایک جوابی حلف نامہ دائر کرنے کا حکم دیا۔ اس معاملے میں اب دو ہفتے بعد سماعت ہوگی۔
بنچ پرویز عارف ٹیٹو کے ذریعہ دائر ایک عرضی پر سماعت کررہی تھی جس میں اترپردیش میں سی اے اے مظاہرہ کے دوران عوامی املاک کو ہوئے نقصان کی بھرپائی کے لیے ضلع انتظامیہ کے ذریعہ مبینہ مظاہرین کو بھیجے گئے نوٹس کو رد کرنے کی اپیل کی گئی ہے ۔
درخواست میں الزام لگایا گیا ہے کہ یہ نوٹس ایک ’من مانےطریقے‘ میں بھیجے گئے ہیں اور ایک ایسے شخص کوبھی نوٹس بھیجا گیا جس کی موت چھ سال پہلے 94 سال کی عمر میں ہو گئی تھی۔اس کے علاوہ 90 سال سے زیادہ عمر کے دو لوگوں سمیت کئی دیگر لوگوں کو بھی ایسے نوٹس بھیجے گئے۔سپریم کورٹ نے گزشتہ سال 31 جنوری کو ریاستی سرکار کو نوٹس جاری کر کے عرضی پر جواب دینے کو کہا تھا ۔ ٹیٹو نے دلیل دی تھی کہ یہ نوٹس الٰہ آباد ہائی کورٹ کے 2010 کے ایک فیصلے پر مبنی تھے جو 2009 کے ایک فیصلے میں عدالت عظمیٰ کے ذریعہ طے کئے ’ہدایت ناموں کی خلاف ورزی‘ تھی۔
درخواست میں عوامی جائیداد کو ہوئے نقصان کی بھرپائی کے لیے دعوے کرتے وقت اترپردیش سرکار کو 2009 میں وضع کردہ طریق کار اور 2018 کے عدالت عظمیٰ کے رہنما اصول پر عمل آوری کی ہدایت دینے کی ایپل کی گئی ہے ۔










