نئی دہلی :
زرعی قوانین پر مرکزی سرکار اور کسان تنظیموں کے مابین گزشتہ تقریباً پانچ مہینے سے کوئی بات چیت نہیں ہوئی ہے۔ دونوں ہی فریق اپنی -اپنی شرائط کو لے کر بضدہیں۔ مرکزی حکومت نے صاف کہا ہے کہ وہ زرعی قوانین پر صرف بحث کرے گی، لیکن انہیں واپس نہیں لے گی۔ ادھر کسان لیڈروں کا کہنا ہے کہ سرکار کے زرعی قوانین واپس لینے پر ہی حل نکل سکتا ہے ۔ اس درمیان بھارتیہ کسان یونین کے رہنما راکیش ٹکیت نے این ڈی اے کی قیادت کررہی بی جے پی پر طنز کستے ہوئے کہاکہ یہ بہت دھارمک پارٹی ہے ، ان سے بڑی رسم ورواج والی پارٹی کوئی ہوہی نہیں سکتی۔
ٹکیت نےپنچایت اور بی ڈی سی انتخابات پر کہاکہ ’ہو سکتا ہے کہ کچھ امیداروں کو پرچہ نہیں بھرنےدیا گیا ہو، ابھی تو دو دن پہلے ہی پرمکھ کے انتخاب تھے، وہ لوگ پرچہ نامزدگی داخل کررہے تھے ۔ افسران غائب ہو گئے۔ وہاں سیٹ پر ہی نہیں بیٹھے۔ امیدوار باہر بیٹھے رہے ۔ وہ شام 6:30بجے آئے ،جبکہ 5 بجے تک پرچہ نامزدگی داخل کرنے کا وقت تھا۔ ‘
بھارتیہ کسان یونین نے سرکار پر نشانہ لگاتے ہوئے کہاکہ ’اتنا بڑامینجمنٹ کہ کس افسر کو کیا کرنا ہے ۔ پریس کو کیا کرناہے ، وہ سب وہاں سے طےہو کر آتاہے ۔ تبھی اتنی بڑی دھاندلی ہوئی۔ ‘
ہم کسی پارٹی کے ساتھ نہیں، مگر اچھا کرنے والے کانام لیںگے ۔ اس کے بعد جب اینکر نے پوچھا کہ اسمبلی انتخابت میں آپ اکھلیش یادو، مایاوتی ، اسدالدین اویسی اور جینت چودھری میں کس کے ساتھ ہیں ، تو ٹکیت نے کہاکہ ہم کسی کے ساتھ نہیں ہیں۔ لیکن جس نے سپورٹ پرائز بڑھایا ہے ، اس کانام تو لیں گے ہی۔ اس سرکار میں بھی پہلے رقم بڑھانے والے کا نام لیں گے اور اگر انہوں نے بڑھا دی تو اگلی بار اگر کسی دوسرے کی سرکار آئے گی تو ہم ان کا بھی نام لیں گے ۔










