سری نگر :
ایک اہم فیصلے میں جموں وکشمیر ہائی کورٹ کا موقف ہے کہ قومی ترانہ کے لیے کھڑے نہ ہونے کو قومی ترانہ کی توہین تو قرار دی جاسکتی ہے، لیکن یہ جرم نہیں ہے۔ اس تاریخی فیصلے سے مختلف ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام خطوں میں لوگوں کے خلاف قومی ترانے کے لیے کھڑے نہیں ہونے یا کھڑے ہونے لیکن اسے نہ گانے کے لیے درج کئے گئے کئی معاملے پر اثر پڑ سکتاہے ۔
عدالت نے صوبہ جموں میں ایک لیکچرر کے خلاف درج ایف آئی آر کو بھی رد کردیا۔ جس پر 2018 میں ایک کالج کی تقریب میں قومی ترانہ کے لیے کھڑے نہیں ہونے کا الزام لگایا گیا تھا۔ جسٹس سنجیو کمار کی سنگل بنچ نے کہاکہ قومی ترانہ کے لیے کھڑا نہ ہونا پریونشن آف انسلٹ ٹو نیشنل آنر ایکٹ (راشٹر کے احترام کی توہین کی روک تھام ایکٹ ) کے تحت جرم نہیں ہے۔ ایکٹ کی دفعہ 3 کا حوالہ دیتےہوئے جج نے کہاکہ قانون صرف اس شخص کے طرز عمل کو سزا دیتا ہے جو یا تو قومی ترانے کو گانے سے روکتا ہے یا منعقد قومی ترانے کی محفل میں کسی بھی طرح کاخلل پیدا کرتا ہے ۔
عدالت نے کہا ’ اس مشاہدے سے یہ نتیجہ نکالا گیا ہے کہ حالانکہ قومی ترانہ بجتے وقت کھڑے نہ ہونا یا قومی ترانہ کے گانے کیلئے منعقد محفل میں چپ رہنا قومی ترانہ کے تئیں توہین ہو سکتی ہے ، لیکن دفعہ 3 کے تحت یہ جرم نہیں ہوگا۔ ہائی کورٹ نے یہ بھی کہا کہ قومی ترانہ کا احترام بھارت کے آئین کے تحت درج بنیادی فرائض میں سے ایک ہے ،لیکن یہ فرض قانون کے ذریعہ لاگو کرنے کے قابل نہیں ہے اور نہ ہی اس طرح کے فرائض کی خلاف ورزی ریاست کے کسی بھی تعزیری قانون کے تحت جرم ہے ۔
اپنے حکم میں عدالت نے 2019 میں بی جے پی کے رکن پارلیمنٹ پرویش ورما کے ذریعہ پیش کردہ نجی ممبر کے بل کا بھی حوالہ دیا ، جس میں اس بات پر زور دیا گیاتھاکہ ایکٹ کی دفعہ 3، جیسا کہ ابھی ہے ،کے تحت ہندوستانی قومی ترانہ کی ’توہین ‘ کو جرم نہیں ماجا جاسکتا ہے ۔
جج نے کہا کہ اگر کسی کو قومی ترانہ گانے سے روکتا ہے یا اس طرح کے گانے میں لگی محفل میں خلل پیدا کرتاہے توہی اسے جرم کہا جا سکتا ہے ۔










