بھوپال :
بھوپال سے ممبر پارلیمنٹ پرگیہ ٹھاکر اپنے بیانوں سے اکثر اپنی ہی پارٹی کو بے چین کرتی آئی ہیں۔ اس بار پھر سے انہوں نے اپنی ہی سرکار کو کٹہرے میں کھڑا کر دیاہے ۔ معاملہ ہے لو جہاد کا۔ ہفتہ کو انہوں نے کہاکہ راجدھانی بھوپال میں تیزی سے لو جہاد کے کیسزسامنے آرہے ہیں لیکن اس معاملے میں پولیس کسی بھی طرح کی کارروائی نہیں کررہی ہے۔
حالانکہ انہوں نے اس بات کا خلاصہ نہیں کیا کہ جو الزام وہ شیوراج سرکار پر لگا رہی ہیں اس کی بنیاد کیا ہے ۔ انہوں نے کہاکہ یہ کافی حساس معاملہ ہے کہ وہ لوگوں کے نام عام نہیں کرنا چاہتیں،کیونکہ یہ لڑکیوں سے جڑے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ اس طرح کے معاملوں میں پولیس کو سخت قدم اٹھانے چاہئے۔ ممبر پارلیمنٹ کاکہنا تھاکہ لو جہاد ، تین طلاق اور تبدیلی مذہب کے معاملوں میں پولیس کی توجہ نہیں جارہی ہے ۔ وہ خود کچھ معاملوں کو لے کر افسران کے ساتھ میٹنگ کریں گی اور مدھیہ پردیش کے ڈی جی پی سے ذاتی طور پر بات کر کے حل نکالیں گی۔
پرگیہ نے کہاکہ بھوپال میں تیزی سے لو جہاد کے معاملے سامنے آرہے ہیں ۔ سرکار اور پولیس ان سب پر کچھ بھی ایکشن نہیں لے رہی ہے۔ ان کا دعویٰ ہے کہ بہت سے کیسز ان کے سامنے آئے ہیں ۔ ممبر پارلیمنٹ نے کہاکہ لو جہاد کے ساتھ تبدیلی مذہب اور تین طلاق کے معاملوں میں بھی تیزی آئی ہے۔ کارروائی نہ ہونے سے لوگوں میں قانون کا ڈر ختم ہو چکا ہے اور ملزمین کا حوصلہ بڑ رہا ہے ۔
بی جے پی کے رکن پارلیمنٹ نے کہاکہ اگر یہی صورت حال برقرار رہی تو پارٹی کے ساتھ سرکار کے ساکھ پر داغ لگے گا۔ لہٰذا وہ اب خود تمام معاملوں کو لے کر پولیس چیف سے ملاقات کریں گی۔ وہ دیکھیں گی کہ جو کیس سامنے آئے ہیں ان میں لوگوں کو انصاف دلایا جا سکے۔
غورطلب ہے کہ مالیگاؤں بم دھماکہ کی ملز رہیں پرگیہ کو بی جے پی نے بھوپال سے 2019 میں ٹکٹ دیا تھا۔ انہوں نے کانگریس کے دگ وجے سنگھ کو شکست دی تھی۔ اس دوران پرگیہ نے گاندھی جی کے قتل میں گوڈ کے رول کو لے کر متنازع بیان بھی دیا تھا۔ جس کے بعد پی ایم مودی نے ناراضگی جاتے ہوئے کہا تھاکہ وہ سادھوی پرگیہ کو دل سے معاف نہیں کر پائیں گے، حالانکہ اس کے بعدپارلیمنٹ میں بھی پرگیہ نے گوڈ کو لے کر تبصرہ کیا مگر بی جے پی خاموش ہے ۔










