نئی دہلی:
سابق نوکر شاہوں کے ایک گروپ نے کھلا خط لکھ کر اترپردیش میں قانون کی حکمرانی کی کھلی خلاف ورزی اور ریاست میں پورے نظم کے تباہ ہو جانے کی تنقید کی ہے ۔انہوں نے کہاکہ ریاست کی یوگی آدتیہ ناتھ سرکار ایک ایسا ماڈل پیش کررہی ہے ، جہاں ہر قدم پر آئین اور قوانین کی خلاف ورزی کی جارہی ہے ۔
ایک آئینی پریکٹس گروپ ، جس کی کئی دیگر متعلقہ نامور شہریوں نے حمایت کی ہے، نے بیان جاری کرکے کہاکہ ایگزیکٹیو مجسٹریٹ اور پولیس سمیت یوپی میں انتظامیہ کی تمام شاخیں ’تباہ ‘ہوگئی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ہمیں خوف ہے کہ اگر اس پر قابونہ پایا گیا تو ریاست میں سیاست اور اداروں کو ہونے والے نقصان کا نتیجہ خود جمہوریت کے خاتمے اور تباہی کاہوگا۔
دی وائر کی رپورٹ کے مطابق اس بیان پر دستخط کرنے والوں کا تعلق کسی سیاسی جماعت سے نہیں ہے بلکہ وہ ’آئین ہند کے متمول شہری‘ ہیں۔انہوں نے کہا کہ اختلاف رائے کے حق کو دبانے کے لیے حراست، جرائم کے الزام اور وصولی کا حکم عام طریقے بن گئے ہیں ۔ ان باتوں کے علاوہ انہوں نے صحافی صدیق کپن کی گرفتاری کا بھی ذکر کیا ۔
دستخط کنندگان نے کہا کہ ریاست میں بڑے پیمانے پر مڈبھیڑ،مبینہ لو جہاد قانون، قومی سلامتی ایکٹ ( این ایس اے) کا غلط استعمال اور سرکار کے ذریعہ کووڈ 19-بحران سے نمٹنے میں کی گئی لاپروائی گہری تشویش کا باعث ہے ۔ انہوں نے کہاکہ متنازع شہریت ترمیمی قانون ( سی اے اے ) کے مظاہرین کے خلاف سیکڑوں ایف آئی آر درج کئے، جس میں 22 لوگوںکی موت ہوئی اور 705 لوگوں کو تمام الزامات میں گرفتار کیا گیا تھا۔
گروپ نے یہ کہاکہ ریاست میں 2017 سے 2020 کے درمیان 6,476 انکاؤنٹرز میں 124 مبینہ مجرموں کو گولی ماری گئی۔ انہوں نے کہاکہ ہمیں ڈر ہے کہ اگر اس پر لگام نہیں لگائی جاتی ہے تو یہ ریاست میں جمہوریت کے خاتمے کی وجہ بنے گا۔ سابق نوکر شاہوں نے موجودہ صورت حال میں بہتری لانے کےلیے کئی اقدامات کے مشورے دیے ہیں۔ بیان پر دستخط کرنے والے چیف سابق بیورو کریٹس میں نجیب جنگ، ہرش مندر، شیوشنکر مینن ،ارون رائے ، جولیوربیرو، جواہر سرکار شامل ہیں۔ وہیں جسٹس (ریٹائرڈ) اےپی شاہ اور 200 سے زیادہ دیگر دستخط کرنے والوں نے اس کی حمایت کی ہے ۔










