نئی دہلی :
ایک ہندو خاتون کے تبدیلی مذہب کے بعد اس کے بارےمیں مبینہ بد نیتی پر مبنی خبر شائع کرنے اور جان پر خطرے کا الزام لگائے جانے کے بعد دہلی ہائی کورٹ نے دہلی سرکار، متعلقہ میڈیا اداروں ،نیوز چینلوں کی تنظیم این بی ایس اے کو نوٹس جاری کیا ہے ۔ یوپی کی خاتون نے 9 سال پہلے 2012 میں ہی مذہب تبدیل کرکے اسلام مذہب قبول کرلیا تھا اور وہ فی الحال دہلی میں رہ رہی ہیں ۔ خاتون نےہائی کورٹ میں عرضی دائر کرکے الزام لگایا ہے کہ تبدیلی مذہب کی وجہ سے ان کو اور ان کے پریوار کے ممبروں کو نشانہ بنایا جا رہاہے اور میڈیا میں بدنیتی پر مبنی مواد شائع کیا جارہا ہے ۔
خاتون نے عرضی میں اپنے اور اپنے پریوار کے لیے پولیس حفاظت کی مانگ کی ہے۔ ’ لائیو لاء ‘ کی رپورٹ کے مطابق خاتون نے یہ بھی کہاہے کہ میڈیا کو اس کی رازداری کا احترام کرنا چاہئے اور اس کے بارے میں کوئی بھی ’ بدنیتی پر مبنی ‘ خبر شائع کرنے سے پرہیز کرنا چاہئے۔ اس میںیہ بھی اپیل کی گئی ہے کہ دیشا روی کے معاملے میں ہائی کورٹ کے ذریعہ جاری کی گئی ہدایات کا میڈیا چینلوں سے عمل آوری کرایا جائے ۔











