نئی دہلی :
اپنے بہترین انتخابی اسٹریٹجی کے لیے مشہور پرشانت کشور نے منگل کو کانگریس رکن پارلیمنٹ اور سابق پارٹی صدر راہل گاندھی سے ان کی رہائش پر ملاقات کی۔ذرائع کے مطابق انتخابی اسٹریٹجی اہم اپوزیشن پارٹی کانگریس میں شامل ہوسکتے ہیں ۔ منگل کو ہوئی میٹنگ میں سونیاگاندھی، راہل گاندھی اور پرینکا گاندھی تینوں موجود تھے۔ کئی رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ پرشانت کشور پنجاب یا اترپردیش انتخاب کی انتخابی پالیسی بنانے کو ان سے ملے تھے، لیکن بنگال اور تمل ناڈو انتخابات کے بعد پرشانت کشور اپنے اس کام سے الگ ہو گئے ہیں۔ انتخابات کے بعد انہوں نے کچھ بڑا کرنے کی خواہش ظاہر کی تھی ۔ بتادیں کہ میٹنگ میں ہریش روات اور کے سی وینوگوپال بھی موجود تھے ۔جانکاری کے مطابق پرینکا گاندھی کو لکھنؤ جانا تھا، لیکن اس میٹنگ کی وجہ سے انھوں نے لکھنؤ دورہ دو دن کے لیے ملتوی کر دیا۔
کانگریس کے سرکردہ لیڈروں کے ساتھ پرشانت کشور کی ملاقات کی خبر جیسے ہی سامنے آئی، سیاسی ماحول میں گرمی پیدا ہو گئی ہے۔ لوگ طرح طرح کی قیاس آرائیاں کرنے میں مصروف ہو گئے ہیں۔
یہاں قابل ذکر ہے کہ کچھ مہینے قبل پنجاب کے وزیر اعلیٰ کیپٹن امریندر سنگھ نے پرشانت کشور کو اپنا چیف مشیر مقرر کیا تھا اور اس کے بعد پرشانت کشور عرف پی کے نے وہاں اراکین اسمبلی و اہم افسران کے ساتھ میٹنگیں کی تھیں۔ ایسا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ آج راہل گاندھی اور پرینکا گاندھی کے ساتھ پرشانت کی میٹنگ پنجاب الیکشن کے پیش نظر ہی ہوئی ہے۔
حالانکہ آج کی میٹنگ کو کئی لوگ مرکزی سیاست سے بھی جوڑ کر دیکھ رہے ہیں کیونکہ گزشتہ مہینے پرشانت کی تین میٹنگیں این سی پی سربراہ شرد پوار کے ساتھ ہوئی تھیں۔بہر حال، معاملہ پنجاب اسمبلی الیکشن کا ہو یا پھر 2024 میں ہونے والے عام انتخابات کا، پرشانت کشور کی کانگریس کے سرکردہ لیڈروں سے ملاقات کئی معنوں میں اہم ٹھہرائی جا رہی ہے۔
پرشانت نے جس طرح مغربی بنگال میں ممتا بنرجی اور تمل ناڈو میں ڈی ایم کے اتحاد کو اسمبلی انتخابات میں کامیابی سے ہمکنار کرنے میں اہم کردار ادا کیا اس سے بی جے پی کو زبردست جھٹکا لگا ہے۔ بنگال میں تو سیاسی ماہرین بی جے پی اور ٹی ایم سی میں زبردست ٹکر کی امید ظاہر کر رہے تھے لیکن پرشانت نے بہت پہلے ہی کہہ دیا تھا کہ بی جے پی کو 100 سے زائد سیٹیں آئیں تو وہ اپنا کام چھوڑ دیں گے۔ اور جب بنگال اسمبلی الیکشن کا رزلٹ سامنے آیا تو بی جے پی محض 77 سیٹوں تک محدود ہو گئی۔











