لکھنؤ :
ٹیچرس سے کروائے جارہے غیر تدریسی کاموں پر الہ آباد ہائی کورٹ نے بڑاحکم دیا ہے ۔ اس میں کہا گیا ہے کہ ٹیچرس سے غیر تدریسی کام نہیں کروائے جائیں گے ۔ الہ آباد ہائی کورٹ کی طرف سے تعلیم کا حق ایکٹ 2009 کا ذکر کرتے ہوئے حکم جاری کیا گیا ہے۔ کورٹ نے تمام ڈی ایم کو اس سے جڑی ہدایت جاری کردی ہے ۔
عدالت نے متعلقہ اتھارٹی، ریاست کے تمام ضلع مجسٹریٹ اور ضلع بنیادی تعلیمی افسران کو احکامات جاری کرنے کی ہدایت دی ہے۔
بتادیں کہ اب تک مڈ ڈے میل تقسیم ، عمارت اور باؤنڈری وال تعمیر ، رنگ و روغن، اسکول کے اکاؤنٹس کا کام ، آدھار کارڈ بنوانے میں مدد جیسے بہت سے غیر تدریسی کام کروائے جارہے تھے ، جن کو اب نہیں کروایا جاسکےگا۔ الہ آباد ہائی کورٹ نے اپنے حکم میں کہا ہے کہ ٹیچروں سے صرف آفات، مردم شماری اور عام انتخابات کے دوران ہی کام لیا جاسکتا ہے ۔
عدالت نے اس حکم میں کہا ہے کہ تعلیم کا حق ایکٹ 2009 کے تحت ٹیچروں کی ڈیوٹی کو غیر تدریسی کاموں میں نہیں لگائی جاسکتی ، اس کے لیے ایکٹ کے رول 27 کا ذکر کیا گیا۔ کورٹ نے رول 27 اور سنیتا شرما و دیگر مفاد عامہ عرضی میں جاری حکم کا سختی سے عمل آوری کرنے کاحکم دیا ہے ۔











