نئی دہلی:
سپریم کورٹ کی پھٹکار کے بعد وزیر داخلہ نے بدھ کو تمام ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام خطوں سے اپیل کی ہے کہ وہ اپنے دائرہ اختیار کے تمام پولیس اسٹیشنوں کو منسوخ آئی ٹی ایکٹ 66-Aکے تحت معاملے درج نہ کرنے کا حکم دیں۔
غور طلب ہے کہ تب سپریم کورٹ نے کہا تھاکہ اس قانون کا تعارف واضح نہیں ہے، ایک مواد جو کسی ایک کے لیے قابل اعتراض ہوگا تو ہوسکتا ہے وہیں دوسرے کے لیے نہ ہو۔ عدالت نے کہا تھا کہ ایکٹ 66-Aسے لوگوں کے جاننے کا حق براہ راست متاثر ہوتاہے ۔ اس وقت کے جسٹس جے چیلمیشور اور جسٹس روہنٹن نریمن کی بنچ نے کہا تھا کہ یہ التزام صاف طور پر آئین میں اظہار رائے کی آزادی کے بنیادی حق کو متاثر کرتاہے ۔
بتادیں کہ دفعہ 66 اے تب پولیس کو اختیار دیتی تھی کہ وہ مبینہ طور پر قابل اعتراض مواد سوشل میڈیا یا نیٹ پر ڈالنے والوں کو گرفتار کرسکتی تھی ، لیکن اب پولیس ایسا نہیں کرسکتی ۔











