نئی دہلی :
سابق مرکزی وزیر ارون شوری اور غیر سرکاری تنظیم کامن کاز نے سپریم کورٹ میں عرضی دائر کرکے بغاوت کا قانون کے آئینی جواز کو چیلنج کیا ہے ۔ وکیل پرشانت بھوشن کے توسط سے دائر ان عرضی میں آئین ہند کے آرٹیکل 14اور 19(1)(A)کی خلاف ورزی کے طور پر تعزیرات ہند 1860کی دفعہ 124A(بغا وت)کےجواز کو چیلنج دیا گیا ہے ۔
استدعا میں کہا گیا ہے کہ ملک سے بغاوت کا جرم مبہم ہے اور وہ کسی مجرمانہ جرم کی کھسوٹی پر کھرا نہیں اترتا ہے ۔ ساتھ ہی یہ بھی کہا گیا ہے کہ توہین ، نفرت اور عدم اطمینان جیسے الفاظ کااستعمال متنازع دفعہ میں کیا گیا ہے ۔ کہا گیا ہے کہ ریاست سے بغاوت ایک نوآبادیاتی قانون ہے جس کااستعمال بھارت میں واضح طور پر انگریزوں کے ذریعہ اختلاف رائے کو دبانے کے لیے کیا جاتا تھا۔
درخواست میں کہا گیا ہے کہ اگر چہ 1962میں کیدار ناتھ بنام بہار معاملے میں سپریم کورٹ کے ذریعہ اس التزام کو برقرار رکھا گیاتھا لیکن اب قانون کی صورت حال بدل گئی ہے لہٰذا معاملے پر نظر ثانی کی ـضرورت ہے ۔ اس دفعہ کے تحت جرم کے طور پر ’عوامی عدم استحکام پیدا کرنے یا عوامی امن میں خلل ڈالنے کے سیکشن ‘ کی جو بات کہی گئی ہے وہ سجیکٹیوہے۔
درخواست میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ جب کیدار ناتھ معاملے پر غور کیا گیا تھا تب دفعہ 124A-کے غلط استعمال کے خلاف کچھ ضابطہ کار حفاظتی اقدامات تھے ، جنہیں بعد میں ہٹایا گیا تھا۔ اس لئے ان بدلی ہوئی صورت حال میں کیدار ناتھ میں فیصلے پر پھر سے غور کرنے کی ضرورت ہے۔ چونکہ یہ دفعہ اب قابل دست اندازی اور غیر ضمانتی ہے۔ اس لئے بے قصور وں کو خمیازہ بھگتنا پڑ رہاہے ۔











