لکھنؤ:
اتراکھنڈ اور راجستھان کے بعد اب اتر پردیش میں بھی اس سال کانوڑ یاترا نہیں ہوگی۔ کورونا انفیکشن کے بڑھتے خطرے کے پیش نظر کانوڑ یاترا کو رد کرنے کا فیصلہ لیا گیا ہے ۔ یوگی سرکار سے بات چیت کے بعد کانوڑ سنگھ نے یہ فیصلہ لیا۔
یوپی سرکار نے پہلے کانوڑ یاترا کی اجازت دے دی تھی۔ پھر سپریم کورٹ نے سرکار کو اپنے فیصلے پر نظر ثانی کرنے کا موقع دیا تھا۔ وزیر اعلیٰ کی ہدایت پرایڈیشنل چیف سکریٹری ہوم اونیش اوستھی اور ڈی جی پی مکل گوئل کانوڑ سنگھوں سے تبادلہ خیال کررہے تھے۔ اب کانوڑ یاتر ا کو رد کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے ۔
مشکل حالات کو دیکھتے ہوئے اکھل بھارتیہ اکھاڑا پریشد نے لوگوں سے اپیل کی تھی کہ بھلے ہی یو پی حکومت نے کانوڑ یاترا کو منظوری دے دی تھی لیکن وہ گھروں سے باہر نہ نکلیں۔ اکھاڑا پریشد کے سربراہ مہنت نریندر گری نے شیو بھکتوں سے کانوڑ یاترا ملتوی کرنے کی خصوصی اپیل کی ہے۔ انھوں نے کانوڑ ایسو سی ایشنز سے بھی گزارش کی تھی کہ کانوڑ یاترا ملتوی کی جائے کیونکہ کووڈ-19 کا انفیکشن تو کم ہو گیا ہے، لیکن تیسری لہر کا اندیشہ بھی بہت زیادہ ہے۔ اگر کانوڑ یاترا نکلی تو کورونا انفیکشن ایک بار پھر تیزی سے پھیل سکتا ہے۔
مہنت نے شیوبھکتوں سے کہا کہ وہ اپنے آس پاس کے شیوالیوں میں جا کر پوجا کریں۔مہنت نریندر گری نے یہ بھی کہا کہ اترپردیش کے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نے بھکتوں کو روایت کے مطابق کانوڑ یاترا کرنے کی اجازت دے دی تھی ، لیکن اگلے مہینے میں پھر سے کووڈ-19 کی تیسری لہر کا اندیشہ ظاہر کیا جا رہا ہے، اس لیے کانوڑ یاترا نکالنا مناسب نہیں ہوگا۔ مہنت نریندر گری نے یہ بھی کہا کہ سبھی سپریم کورٹ کے احکام اور ریاستی حکومت کی گائیڈ لائن پر عمل کریں تاکہ حالات ایک بار پھر سے خراب نہ ہو جائے۔











