نئی دہلی:
کسان رہنما راکیش ٹکیت وقتاً فوقتاً مرکزی حکومت کو نشانہ بناتے رہتے ہیں اور اپنے انداز میں بھی دھمکیاں دیتے رہتے ہیں۔ نئی دھمکی کے تحت اب انہوں نے کہاکہ کسان پارلیمنٹ سے کسانوں نے گونگی-بہری سرکار کو بیدار کرنے کا کام کیا ہے۔ کسان پارلیمنٹ چلانا بھی جانتا ہے اور نظر انداز کرنے والوں کو گاؤں میں سبق سکھانا بھی جانتا ہے ۔ غلط فہمی میں کوئی نہ رہے ۔ راکیش ٹکیت نے اپنے ٹوئٹر ہنڈل سے یہ لائنیں ٹویٹ کی ہیں۔ معلوم ہو کہ پارلیمنٹ کے مانسون اجلاس کے دوران کسان پارلیمنٹ کے پاس منتر منتر پر اپنا کسان پارلیمنٹ چلا رہے ہیں۔
بھارتیہ کسان یونین اور دیگر تنظیموں کے 200 لیڈر اور حمایتی روزانہ دہلی پولیس کی نگرانی میں جنتر منتر پہنچ رہے ہیں اور یہاں صبح 11 بجے سے شام 5 بجے تک اپنا پارلیمنٹ لگانے کے بعد واپس چلے جاتے ہیں ۔ کسانوں نے پہلے ہی یہ اعلان کیا تھاکہ وہ مانسون اجلاس کے دوران پارلیمنٹ کے باہر تک جائیں گے وہاں اپنا احتجاج کریں گے، اس کے بعد واپس آئیں گے ۔ مگر دہلی پولیس نے اس کی اجازت نہیں دی۔ پھر کسانوں کو جنتر منتر تک محدودتعداد میں جانے کی اجازت دی گئی۔ وہ بھی پولیس کی نگرانی میں۔ اب سنگھو بارڈر سے روزانہ 200 کسان جنتر منتر پہنچ رہےہیں۔
کسان تنظیمیں مرکزی حکومت کے تینوں زرعی قوانین کے خلاف گزشتہ 8 ماہ سے دہلی کی سرحدوں پر بیٹھی ہیں۔ ان کے احتاج ومظاہرے سے اب تک کئی کروڑ کا نقصان ہو چکاہے ۔مرکز ی سرکار سے کئی دور کی بات چیت کے بعد بھی اب تک ان کے مسائل کا حل نہیں ہو پایا ہے ۔ کسان ان قوانین کو ختم کرنے پر بضد ہیں جبکہ مرکزی سرکار کے وزیر زراعت تومر بات چیت کرکے اس کاحل نکالنے کے لیے تیار ہیں۔











