پٹنہ: بہار میں ری-نیٹ (NEET) امتحان کے دوران ایک بار پھر امتحانی دھاندلی کا بڑا معاملہ سامنے آیا ہے۔ پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے مبینہ سالور گینگ سے وابستہ 30 افراد کو گرفتار کر لیا ہے، جن میں 9 ایسے نقلی امیدوار بھی شامل ہیں جو اصل امیدواروں کی جگہ امتحان دینے پہنچے تھے۔
تحقیقاتی اداروں کے مطابق گرفتار افراد پر الزام ہے کہ وہ منظم طریقے سے امیدواروں کے بدلے امتحان دینے، جعلی دستاویزات تیار کرنے اور امتحانی نظام میں دھاندلی کی کوششوں میں ملوث تھے۔ حکام کا کہنا ہے کہ امتحانی مراکز پر شناختی جانچ اور بائیومیٹرک تصدیق کے دوران کئی مشتبہ افراد پکڑے گئے، جس کے بعد وسیع پیمانے پر تحقیقات کا آغاز کیا گیا۔
AI نگرانی اور 51 ہزار جیمرز کے باوجود گینگ کیسے فعال ہوا؟
عوام اور سوشل میڈیا پر اب یہ سوال تیزی سے اٹھ رہا ہے کہ جب مودی حکومت نے دعویٰ کیا تھا کہ تمام سینٹرز پر انٹرنیٹ اور بلوٹوتھ کو بلاک کرنے کے لیے 51 ہزار جیمرز لگائے گئے ہیں، تو یہ گینگ امتحانی ہال تک کیسے پہنچ گیا؟
تعلیمی ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ گینگ انٹرنیٹ کے ذریعے پیپر لیک کرنے کے بجائے "لوکل امتحانی عملے کی ملی بھگت” پر کام کر رہا تھا۔ جیمرز سگنل تو روک سکتے ہیں، لیکن اگر امتحانی مرکز کا اندرونی عملہ ہی پیسے لے کر نقلی امیدوار کو اندر بٹھا دے، تو وہاں ٹیکنالوجی فیل ہو جاتی ہے۔ تاہم، دلی کنٹرول روم میں بیٹھے این ٹی اے کے AI فیس ریکگنیشن سسٹم نے کچھ سینٹرز پر چہروں کا فرق پکڑ کر پولیس کو الرٹ بھیجا، جس سے کئی گرفتاریاں ممکن ہوئیں۔











