اردو
हिन्दी
مئی 5, 2026
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں

امارت شرعیہ کا قضیہ اور عام مسلمانوں کا درد

5 سال پہلے
‏‏‎ ‎‏‏‎ ‎|‏‏‎ ‎‏‏‎ ‎ مذہبیات
A A
0
امارت شرعیہ کا قضیہ اور عام مسلمانوں کا درد
124
مشاہدات
Share on FacebookShare on TwitterShare on Whatsapp

شاہنواز خاں

نوٹ:

امارت شرعیہ میں امیر کے انتخاب پر لڑائی کوئی پہلا یا حیرت انگیز معاملہ نہیں ہے، ماضی میں یہاں کے درو دیوار شریعت کی ڈھال کے ذریعہ طاقت کے مظاہرے، جوڑ توڑ ، سازشیں ،پگڑیاں اچھالنے ،جیسے مظاہر دیکھ چکے ہیں اور اب تو عقیدت مندوں کی ٹرول فوج ہے، سوشل میڈیا کا پلیٹ فارم ہے، اس لیے ہر تماشہ ہورہا ہے ،پولیس کی بھاری نفری کی موجودگی بھی کچھ بیان کرتی ہے یہ مضمون مسلمانوں کے درد کے حوالے سے لکھا گیا اور عہدے کے لیے لابنگ کا رونا رویا گیا ہے مگر خود صاحب مضمون کسی کے لیے لابنگ اور بیٹنگ کرتے نظر آرہے ہیں تو اصلی درد کیا ہے وہ سمجھ آجاتا ہے قاریین یہ مضمون ملاحظہ کریں اور ڈوریاں کہاں سے ہل رہی ہیں وہ محسوس کریں

( ادارہ)

امارت شرعیہ بہار اڑیسہ جھارکھنڈ کا کرب دروں اب منظر عام پر آگیا اور اس کے اندر کےناسور کے پھٹنےاور اس عظیم ادارے کے کراہنے کی آواز سے ارباب حل وعقد کے بڑے طبقے کے علاوہ عام مسلمانوں، ملت کے ہمدردوں ،دین وشریعت کے فکر مند ذی شعورحضرات میں شدید بے چینی ، بد دلی وبیزاری پیدا ہو رہی ہے۔

گذشتہ دنوں امارت شرعیہ کے ایک مخلص ہمدرد صحافی کا بیان نظر نواز ہوا تھا، کیفیات خاطر اندوہ و رنج ،سے دوچار تھی،کہ سوشل میڈیا پر گشت کرتےایک بیان نے ذہن و دل پر ضرب کا ری لگائی اور پہلے سے بوجھل دل ودماغ کوجھنجھوڑ کر رکھ دیا۔ یہ خبر نہایت ہی تشویش ناک اور پریشان کن ہے کہ جناب فہد رحمانی، مرحوم حضرت ولی رحمانی کے چھوٹے صاحبزادے نے اپنے بڑے بھائی کو امیر شریعت کی کرسی پر بٹھانے کی زبردست مہم چھیڑ رکھی ہے اور وہ جناب خالد سیف اللہ رحمانی صاحب کی حمایت حاصل کرنے کے لیے حیدر باد تک کمپین کرنے پہنچ گیے۔ واٹس ایپ کے اس بیان میں یہ وضاحت بھی ہے کہ جناب خالد سیف اللہ رحمانی صاحب نے ان کی حرکت پر ناپسندیدگی کا اظہار کیا اور حمایتی تجویز پر دستخط نہیں کیا۔ واٹس ایپ پیغام کے ذریعے لوگوں نے خالد سیف اللہ صاحب کے اس عمل کی ستایش کرتے ہوے ان کے جذبے کو سلام کیاہے۔

یوں تو ساتویں امیر شریعت حضرت مولانا ولی رحمانی صاحب کی زندگی کے آخری ایام سے ہی اس عظیم المرتبت ادارے کے احوال قابل فکرہونے لگے تھے اور اس کا کرب دروں پریشان کن صورت اختیار کرنے لگا تھا، عام آدمی امارت شرعیہ کے احوال اور منظر عام پر آتی خبروں سے انگشت بدنداں ہوکر اللہ کے دربار میں فریاد رس تھا کہ اللہ اپنی حکمت سے بچا لے بہار ،اڑیسہ، جھارکھنڈ کے مسلمانوں کی اس اہم اور نمایند تنظیم کو اور میرے جیسا جاہل آدمی مجبور تھا،مضطرب تھا، اس دعا کے لیے کہ یا اللہ اخلاص پیدا کر ہمارے اکابرین کے دل میں، اور اپنے خوف،اور تقوی سے انہیں نواز دے، تاکہ عوام اور عام مسلمانوں کے دل وذہن میں موجود ان کی عظمت مجروح ہونے سے بچ جائے۔

مرحوم حضرت مولانا ولی رحمانی صاحب کی ذات گرامی اور ان کی قایدانہ صلاحیت سے یہ یقین تھا کہ وہ اپنے اسلاف ،مخلص بزرگوں کے ذریعہ قایم کردہ اس عظیم ادارے کی اپنے تدبر اور دینی بصیرت سے حفاظت کر لیں گے۔ بلکہ بزرگوں، اور اکابرین کے اخلاص کے اس شجر کی مزید آبیاری کر کے اس کے ثمر سے ملت کو مستفیض کرانے میں کامیاب ہو جائیں گے اور اپنے آخری ایام میں پوری توانائی کے ساتھ وہ اس سمت چل پڑے تھے ان کے سارے اقدام کی پزیرائی ہو رہی تھی۔ مسلمانوں کی پسماندگی دور کرنے کی غرض سے تعلیمی بیداری مہم ،امارت کی ضلعی تنظیم کی مضبوطی مہم ،ملت کے مسائل کے حل کےلیے سیاسی اقدام، ارباب اقتدار سے رابطہ اور اردو تحریک میں روح پھونک کر ،اردو تہذیب وتمدن کے فروغ کی فکر وغیرہ سارے معاملے میں ان کی کارکردگی قابل تحسین تھی انہوں نے واقعتاً ملت کی رہنمائی کا حق اداکیا۔ اور ملت بھی ان کی آواز پر لبیک کہنے میں کوتاہ نہیں تھی۔ دین بچاؤ دیش بچاؤ تحریک میں مسلمانوں کے جذبۂ ایمانی کا مظاہرہ دنیا نے دیکھا، لیکن مشیت ایزدی کو کیا منظور تھا ،عین وقت پر جب کہ ان کی رہنمائی کی ضرورت تھی، انہیں مالک کل نے اپنے پاس بلا لیا۔ دلوں کا حال تو اللہ ہی کو معلوم، ہم تو ظاہر ی اسباب کی بنا پر ہی سوچتے، سمجھتے اور اپنی رائے قائم کرتے ہیں۔ مرحوم کی موت کے بعد کی ابدی زندگی ضرور بہتر ہوگی اللہ نے انہیں اعلیٰ مقام عطا کیا ہوگا۔اس دنیا کی بہتر کارکردگی کے صلہ سے انہیں نواز ا گیا ہو گا۔ اللہ کی ذات سے ہمیں تو یہی توقع رکھنی چاہیے اورہم اللہ سے یہی دعا بھی کرتے ہیں۔ اللہ انہی کروٹ کروٹ جنت نصیب کرے۔ آمین

لیکن حضرت کی رخصت کے ساتھ ہی امارت میں اتنا بڑا بھونچال آجائے گا، ان کے پسماندگان، ان کے شیدائیوں، حمایتیوں ،ان کے پروردہ علمائے دین، اور ان کے خفیہ مخالفین اور ان کے عمل سے ناراض عماید کے مابین کی رسہ کشی اس حد تک پہنچ جائے گی کہ امارت کا وقار ہی داؤ پر لگ جائے گا،ایسا تصور نہیں کیاگیا تھا۔ لوگ کہتے ہیں کہ اس فتنے کی بنیاد ان کی زندگی میں ہی ڈال دی گئی تھی۔

انہوں نے نہ معلوم کس مصلحت کے تحت ایام سرکردگی میں اپنا نائب نامزد نہیں کیا اور آخر میں ہسپتال میں مولانا شمشاد رحمانی صاحب کو دستار نیابت سے سرفراز کیا۔ اب اتنے بڑے فیصلے میں کونسا جذبہ کار فرما تھا ،یہ تو اللہ کو معلوم اور اس کی ضابطگی پر زبان درازی کرنے کا نہ میں اہل ہوں نہ میری بساط ہے اور نہ ارادہ۔ وہ تو اکابرین جانیں، ارباب حل عقد جانیں، اہل شوری جانیں ۔ اہل خرد جانیں۔ ویسے پوری اسلامی تاریخ اس طرح کے واقعات، حادثات، وسوسوں، فتنوں سے بھری پڑی ہے۔ ابھی اس میں، میں آپ کو الجھانا نہیں چاہتا۔

ابھی مجھے عام مسلمانوں کے درد میں شامل ہونے دیجیے۔ خدا را اس عظیم ادارے کے حفاظت کی فکرکیجیے۔ امیر شریعت کے عہدے کے انتخاب کو سیاسی انتخا ب کی طرح لابی ، پرچار ،اشتہار یا دستخطی مہم سے بچائیے ، اب تک بے لوث مخلص خداترس بزرگ کی خوشامد کر کے امیر کی ذمہ داری اٹھانے کی گذارش کرنے کی روایت کو باقی رکھیے۔

ابا کی میراث سمجھ کر امیر شریعت بننے کی خواہش رکھنے والا کبھی امیر بننے کا اہل نہیں ہوسکتا اور اہل تو وہ بزرگ بھی نہیں ہو سکتا جو خود کی دعویداری پیش کرتا ہو اور اس کے دل میں امارت کے لیے لڈو پھوٹ رہے ہوں۔

اب ایسی صورتحال پیدا ہونے جا رہی ہے کہ اس عظیم ادارے کے بہی خواہ حضرات کی خاموشی کے باعث سنگین صورتحال رونما ہو سکتی ہے۔علمائے حق اور ارباب حل وعقد کو آگے بڑھ کر کوی تدبیر کرنی چاہیے۔ ہر آدمی جناب خالد سیف اللہ رحمانی صاحب کی شخصیت سے متاثر ہے اور سب کی نظر میں وہی سب سے اہل بزرگ ہیں جو اس نازک صورتحال میں امارت کے وقار کی حفاظت کر سکتے ہیں اور موجودہ بحران کے اس بھنور سے کشتی امارت کو نکال کر کنارے لگا سکتے ہیں۔ تو پھر کیوں نہیں غیر جانبدار ارباب حل وعقد علمائے حق اور امارت شرعیہ سے ہمدردی رکھنے والے مخلصین حضرات، ماضی کی روایت کو دہراتے ہوے انہی سے یہ ذمہ داری قبول کرنے کی گذارش کریں ۔ان کی خوشامد کریں ، التجا کریں کہ ایسی نازک صورتحال میں اس فتنے کو سر کرنے کی یہی ایک ترکیب نظر آرہی ہے۔ اکثر لوگوں سے سننے کو ملا کہ وہ تنازع میں نہیں پڑنا چاہتے،لیکن بالاتفاق ،مشترکہ طور پر ان سے رجوع کیا جائے تو وہ یہ ذمہ داری قبول کرلیں گے۔ کچھ لوگوں نے شروع میں ہی حیدرآباد میں ان کی مصروفیت،ان کی وہاں کی ذمہ داریوں کے حوالے سے ایک منصوبہ کے تحت یہ خبر گشت کرا دی کہ خالد سیف اللہ رحمانی صاحب نے ذمہ داری لینے سے انکار کردیا ،حالانکہ یہ مصدقہ خبر نہیں تھی، انہوں نے موجودہ بحران اور فتنے کے پیش نظر کنارہ کشی کا فیصلہ کیا تھا۔ ممکن ہے حیدرآباد میں ان کی جمی جمائی حیثیت ،ان کی مشغولیت ان کی اعلٰی ظرفی اور شریفانہ طبیعت بھی مخل ہو ، لیکن اب تو وقت وحالات کے تقاضے کے پیش نظر ان کی قربانی بڑی اہمیت کی حامل ہوگئی ہے ، اللہ ان کے دل میں بات ڈال دے اورہمارے اسلاف نے تو اپنا آشیانہ جلا کر زمانے کو جلا بخشی ہے۔ وہ امارت کی باگ ڈور اپنے ہاتھ لے کر فی الحال فتنے کو تو سر کرنے کی زحمت گوارہ کریں،پھر اللہ قادر ہے کوئی نہ کوئی صورت نکال دےگا ، ان شا ء اللہ ـ

ابھی ضرورت ہے کہ فوراً امیر کے انتخابی عمل کو روک کر زیادہ سے زیادہ حضرات اپنے اپنے طور پر حضرت مولانا خالد سیف اللہ رحمانی صاحب سے رجوع کریں انہیں راضی کرانے کی سعی کریں، کچھ علما حضرات نے تو یہاں تک بیان دیا کہ اگر امارت کی کرسی جناب فیصل رحمانی کے حوالے اس لیے کر دی گئی کہ وہ حضرت ولی رحمانی مرحوم کے صاحب زادے ہیں تو وہ اس کی مخالفت کریں گے۔ تب تو انتشار اور فساد کی صورت حال پیدا ہوگی اور امارت شرعیہ اور مسلمانوں کے بدترین منظر رونما ہوں گے۔ ذی شعورحضرات ، حساس اور مخلص علما سب امارت شرعیہ کی شبیہ بگاڑنے کے جرم کے مرتکب ہوں گے۔ ائمۂ مساجد نے جو اعلان کیا ہے وہ خوفناک صورتحال کا غماز ہے اور بربادی کا پیش خیمہ ہوگا۔ لہذا ویسی نوبت نہیں آوے اس کی فکر کی جائے اور فتنہ کے بڑی شکل اختیار کرنے سے قبل اس کو دبانے بجھانے کے اقدام کیے جائیں یہ تمام مسلمانوں کی ذمہ داری ہے۔

(سابق رکن بہار پبلک سروس کمیشن)

قارئین سے ایک گزارش

سچ کے ساتھ آزاد میڈیا وقت کی اہم ضرورت ہےـ روزنامہ خبریں سخت ترین چیلنجوں کے سایے میں گزشتہ دس سال سے یہ خدمت انجام دے رہا ہے۔ اردو، ہندی ویب سائٹ کے ساتھ یو ٹیوب چینل بھی۔ جلد انگریزی پورٹل شروع کرنے کا منصوبہ ہے۔ یہ کاز عوامی تعاون کے بغیر نہیں ہوسکتا۔ اسے جاری رکھنے کے لیے ہمیں آپ کے تعاون کی ضرورت ہے۔

سپورٹ کریں سبسکرائب کریں

مزید خبریں

مذہبیات

جب مسجد اور تعلیمی ادارے کے درمیان جھگڑے کی تاریکی چھٹی

22 اگست
مذہبیات

ڈپریشن :قرآنی علاج

09 جولائی
مذہبیات

_یہودی قیادت سے معزول__

20 جون
  • ٹرینڈنگ
  • تبصرے
  • تازہ ترین
Humayun Kabir Owaisi Video Row

ہمایوں کبیر کے خفیہ ویڈیو نے اویسی پر بی جے پی کی بی ٹیم کے الزام کو تقویت دی، اتحاد ٹوٹا ، سیاسی بصیرت پر بھی سوال

اپریل 10, 2026
یوپی کے 558 مدارس میں مڈ ڈے میل کون کھا رہا ہے؟ چونکاتی گراؤنڈ رپورٹ

یوپی کے 558 مدارس میں مڈ ڈے میل کون کھا رہا ہے؟ چونکاتی گراؤنڈ رپورٹ

اپریل 10, 2026
DD News Anchor Controversy News

پبلک ٹیکس سے چلنے والے ‘ڈی ڈی نیوز’ کے اینکر نے کہا” ساورکر کے چپل کی دھول بھی نہیں راہل گادھی

اپریل 13, 2026
طالبان ميں پھوٹ کی خبريں، حقيقت يا پروپيگنڈہ؟

طالبان ميں پھوٹ کی خبريں، حقيقت يا پروپيگنڈہ؟

ستمبر 19, 2021
امریکہ ایران کشیدگی خبر

امریکہ–ایران کشیدگی ایک بار پھر سرخیوں میں، جنگ بندی میں توسیع کے باوجود بڑے معاہدے کا مستقبل خطرے میں

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

دہلی میں بڑھتے جرائم پولیس الرٹ

دہلی-NCR میں جرائم کے واقعات میں اضافہ، پولیس الرٹ

امریکہ ایران کشیدگی خبر

ایران–امریکہ مذاکرات میں محدود پیش رفت، اختلافات بدستور برقرار: قالیباف

امریکہ ایران کشیدگی خبر

امریکہ–ایران کشیدگی ایک بار پھر سرخیوں میں، جنگ بندی میں توسیع کے باوجود بڑے معاہدے کا مستقبل خطرے میں

اپریل 22, 2026
الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

اپریل 21, 2026
دہلی میں بڑھتے جرائم پولیس الرٹ

دہلی-NCR میں جرائم کے واقعات میں اضافہ، پولیس الرٹ

اپریل 21, 2026
امریکہ ایران کشیدگی خبر

ایران–امریکہ مذاکرات میں محدود پیش رفت، اختلافات بدستور برقرار: قالیباف

اپریل 19, 2026

حالیہ خبریں

امریکہ ایران کشیدگی خبر

امریکہ–ایران کشیدگی ایک بار پھر سرخیوں میں، جنگ بندی میں توسیع کے باوجود بڑے معاہدے کا مستقبل خطرے میں

اپریل 22, 2026
الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

اپریل 21, 2026
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein

روزنامہ خبریں مفاد عامہ ‘ جمہوری اقدار وآئین کی پاسداری کا پابند ہے۔ اس نے مختصر مدت میں ہی سنجیدہ رویے‘غیر جانبدارانہ پالیسی ‘ملک و ملت کے مسائل معروضی انداز میں ابھارنے اور خبروں و تجزیوں کے اعلی معیار کی بدولت سماج کے ہر طبقہ میں اپنی جگہ بنالی۔ اب روزنامہ خبریں نے حالات کے تقاضوں کے تحت اردو کے ساتھ ہندی میں24x7کے ڈائمنگ ویب سائٹ شروع کی ہے۔ ہمیں یقین ہے کہ یہ آپ کی توقعات پر پوری اترے گی۔

اہم لنک

  • ABOUT US
  • SUPPORT US
  • TERMS AND CONDITIONS
  • PRIVACY POLICY
  • GRIEVANCE
  • CONTACT US
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے

.ALL RIGHTS RESERVED © COPYRIGHT ROZNAMA KHABREIN

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In

Add New Playlist

کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے

.ALL RIGHTS RESERVED © COPYRIGHT ROZNAMA KHABREIN