اردو
हिन्दी
اگست 29, 2026
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں

ایک وزیر اعلیٰ کا دوسرے وزیر اعلیٰ پر اقدام قتل کا کیس

5 سال پہلے
‏‏‎ ‎‏‏‎ ‎|‏‏‎ ‎‏‏‎ ‎ گراونڈ رپورٹ
A A
0
ایک وزیر اعلیٰ کا دوسرے وزیر اعلیٰ پر اقدام قتل کا کیس
77
مشاہدات
Share on FacebookShare on TwitterShare on Whatsapp

رپورٹ: جاوید اختر

شمال مغربی بھارت کی دو ریاستوں آسام اور میزورم کے درمیان جاری کشیدگی نے جمعے کے روز ایک نیا موڑ لے لیا۔ میزورم حکومت نے آسام کے وزیر اعلیٰ ہیمنت بسوا سرما اور ریاست کے چھ دیگر اعلیٰ عہدیداروں کے خلاف اقدام قتل اور باقاعدہ حملہ کرنے کی دفعات کے تحت مقدمہ درج کرا دیا۔

آسام کے وزیر اعلیٰ کے خلاف اقدام قتل کا کیس

میزورم پولیس نے آسام کے جن چھ اعلیٰ عہدیداروں کے خلاف مقدمہ درج کیا ہے، ان میں ریاست کے انسپکٹر جنرل پولیس، ڈپٹی انسپکٹر جنرل پولیس، ایک سپرنٹنڈنٹ پولیس اور ایک تھانہ انچارج بھی شامل ہیں۔ ان کے علاوہ دو سو نامعلوم پولیس اہلکاروں کے خلاف بھی کیس درج کیا گیا ہے۔

پیر 26 جولائی کو آسام اور منی پور کے پولیس اہلکاروں کے درمیان شدید جھڑپیں ہوئی تھیں، جن میں آسام کے کم از کم چھ پولیس اہلکار ہلاک ہو گئے تھے جبکہ دونوں طرف کے 80 دیگر اہلکار زخمی بھی ہوئے تھے، جن میں کئی افسران بھی شامل تھے۔ اس واقعے کے بعد دونوں ریاستوں کے وزرائے اعلیٰ اور عہدیدارو ں نے ایک دوسرے پر تشدد کو ہوا دینے کے الزامات عائد کیے تھے۔

میزورم کے وزیر اعلیٰ کی طرف سے درج کرائی گئی ایف آئی آر میں کہا گیا ہے کہ آسام کے پولیس اہلکاروں نے وزیر اعلیٰ ہیمنت بسوا سرما کی ہدایت پر عمل کرتے ہوئے واقعے کے روز میزورم پولیس کے ساتھ تنازعے کے ”دوستانہ حل‘‘ کے لیے بات چیت کرنے سے منع کر دیا تھا۔

میزورم کے اعلیٰ عہدیداروں کے خلاف نوٹس

اس سے قبل جمعے کے روز ہی آسام نے میزورم کے چھ اعلیٰ عہدیداروں کو 26 جولائی کے واقعے سے متعلق وضاحت کے لیے طلب کیا تھا، لیکن ان عہدیداروں نے سرکاری نوٹس قبول کرنے سے انکار کر دیا تھا۔

آسام پولیس میزورم سے ملکی پارلیمان کے ایوان بالا یعنی راجیہ سبھا کے رکن کے ونلاوینا کو بھی تلاش کر رہی ہے۔ آسام پولیس انہیں تلاش کرنے کے لیے دہلی پہنچی، لیکن جب ان کا پتہ نہ لگا سکی، تو دہلی میں ریاست کے ریذیڈنٹ کمشنر کو سمن دینے کی کوشش کی جسے انہوں نے وصول کرنے سے انکار کر دیا۔ اس کے بعد آسام کی پولیس اس سمن کی کاپی رکن پارلیمان ونلاوینا کی رہائش گاہ کے باہر چسپاں کر کے لوٹ گئی تھی۔

آسام پولیس نے بعد میں کہا، ”سمن کی تعمیل کرا دی گئی ہے۔ اب ونلاوینا کو چاہیے کہ وہ تفتیش میں تعاون کریں ورنہ ان کے وارنٹ گرفتاری جاری کر دیے جائیں گے۔‘‘

دونوں ریاستیں آمنے سامنے

بھارت میں یوں تو متعدد ریاستوں کے درمیان پانی اور قدرتی وسائل کی تقسیم سمیت کئی طرح کے تنازعات برسوں سے جاری ہیں۔ اس حوالے سے عدالتوں میں مقدمات بھی چل رہے ہیں اور بعض اوقات ریاستوں کے عوام کے درمیان کشیدگی بھی پیدا ہوتی رہی ہے۔ تاہم یہ غالباً پہلا موقع ہے جب ملک کی دو ریاستوں کی پولیس نہ صرف ایک دوسرے سے متصادم ہو گئی بلکہ وزراء اعلیٰ اپنی اپنی ریاستوں کے عوام کو بھی ایک دوسرے کے خلاف صف آرا کر رہے ہیں۔ دونوں ریاستوں کے عوام نے اہم شاہراہوں کو بند کر دیا، جس کے بعد ان ریاستوں کا ملک کے دیگر حصوں سے بذریعہ سڑک رابطہ تقریباً منقطع ہو گیا۔

ہیمنت بسواسرما نے آسام کے عوام کو میزورم نہ جانے کا مشورہ دیا ہے۔ دوسری طرف میزورم کے وزیر اعلیٰ زورم تھنگا نے بھی ریاستی سرحدوں پر سکیورٹی اہلکار بڑی تعداد میں تعینات کر دیے ہیں۔ انہوں نے مرکزی حکومت کی اپیل کے باوجود سیکورٹی فورسز کو ہٹانے سے انکار کر دیا اور کہا کہ انہیں مرکز کے نیم فوجی دستوں پر اعتماد نہیں کہ وہ سرحدی علاقے میں رہنے والے باشندوں کی حفاظت کر سکیں گے۔

تنازعہ ہے کیا؟

ریاست آسام اور میزورم کے درمیان سرحد ڈیڑھ سو کلو میٹر سے بھی زیادہ طویل ہے تاہم اس سرحد کے بارے میں دونوں کے درمیان ابتدا ہی سے شدید اختلافات پائے جاتے ہیں اور وقتاً فوقتاً دونوں میں تکرار ہوتی رہی ہے۔ گزشتہ جون میں بھی اسی طرح کا ایک واقعہ پیش آیا تھا، جس کے بعد اطراف کے لوگوں کے درمیان پر تشدد مظاہرے پھوٹ پڑے تھے۔ تاہم گزشتہ پیر کے روز کا واقعہ دونوں ریاستوں کی پولیس کے درمیان خونریز جھڑپ کا پہلا واقعہ ہے۔ اس تصادم میں دونو ں جانب سے بڑے پیمانے پر توڑ پھوڑ بھی کی گئی تھی۔

سن 1972 سے پہلے تک میزورم ریاست آسام ہی کا حصہ تھا، جسے اس دور میں ‘لوشائی ہلز‘ کے نام سے جانا جاتا تھا۔ تاہم طویل جدوجہد کے بعد سن 1972 میں اسے ایک نئی اور علیحدہ ریاست کا درجہ دے دیا گیا اور تبھی سے دونوں میں سرحدی تنازعہ جاری ہے۔ سرحد کے تعین کے حوالے سے میزورم 1857ء کے ایک نوٹیفیکیشن کو بنیاد بنانا چاہتا ہے جبکہ آسام 1933 کے ایک نوٹیفیکیشن کو بنیاد بنانے پر اصرار کرتا ہے۔

مرکزی حکومت کی حیران کن خاموشی

سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ حیرت کی بات ہے کہ اتنے اہم معاملے پر بھارت کی مرکزی قیادت خاموش ہے۔ حالانکہ بعض ذرائع کے مطابق وزیر داخلہ امیت شاہ نے دونوں وزرائے اعلیٰ سے مسئلے کو باہمی افہام و تفہیم کے ذریعے خیر سگالی کے ساتھ حل کرنے کی اپیل کی ہے، تاہم اس بارے میں نئی دہلی میں مودی حکومت کی طرف سے کوئی باضابطہ بیان اب تک سامنے نہیں آیا۔

اس دوران مرکزی نیم فوجی دستے سی آر پی ایف کی پانچ کمپنیاں یعنی تقریباً پانچ سو جوان تعینات کیے گئے ہیں۔ یہ جوان آسام اور میزورم کی پولیس فورسز کے درمیان کھڑے ہیں۔

(بشکریہ: ڈی ڈبلیو)

قارئین سے ایک گزارش

سچ کے ساتھ آزاد میڈیا وقت کی اہم ضرورت ہےـ روزنامہ خبریں سخت ترین چیلنجوں کے سایے میں گزشتہ دس سال سے یہ خدمت انجام دے رہا ہے۔ اردو، ہندی ویب سائٹ کے ساتھ یو ٹیوب چینل بھی۔ جلد انگریزی پورٹل شروع کرنے کا منصوبہ ہے۔ یہ کاز عوامی تعاون کے بغیر نہیں ہوسکتا۔ اسے جاری رکھنے کے لیے ہمیں آپ کے تعاون کی ضرورت ہے۔

سپورٹ کریں سبسکرائب کریں

مزید خبریں

ہم متبادل ورلڈ آرڈر کے حق میں، ٹیرف متاثرین کے لیے سرکار ہر ضروری قدم اٹھائے: امیر جماعت
گراونڈ رپورٹ

ہم متبادل ورلڈ آرڈر کے حق میں، ٹیرف متاثرین کے لیے سرکار ہر ضروری قدم اٹھائے: امیر جماعت

06 ستمبر
سنبھل فساد کی تحقیقاتی رپورٹ میں ایسا کیا ہے کہ یوگی حکومت پر اٹھے سوال دبا دیئے گیے؟
گراونڈ رپورٹ

سنبھل فساد کی تحقیقاتی رپورٹ میں ایسا کیا ہے کہ یوگی حکومت پر اٹھے سوال دبا دیئے گیے؟

01 ستمبر
آسام:بنگالی بولنے والے مسلمانوں کے خلاف نفرت وتشدد میں بےحد اضافہ:India Hate Lab نے نیا ڈیٹا جاری کیا
گراونڈ رپورٹ

آسام:بنگالی بولنے والے مسلمانوں کے خلاف نفرت وتشدد میں بےحد اضافہ:India Hate Lab نے نیا ڈیٹا جاری کیا

03 اگست
  • ٹرینڈنگ
  • تبصرے
  • تازہ ترین
حافظ قرآن کی عظمت اور ان کا مقام و مرتبہ

حافظ قرآن کی عظمت اور ان کا مقام و مرتبہ

مارچ 31, 2022
طالبان ميں پھوٹ کی خبريں، حقيقت يا پروپيگنڈہ؟

طالبان ميں پھوٹ کی خبريں، حقيقت يا پروپيگنڈہ؟

ستمبر 19, 2021
Damaged bus in Nepal after attack on Indian passengers

نیپال میں کتنے ہندو کتنے مسلمان ہیں؟

ستمبر 11, 2025

موجودہ دور میں مسلمان دل ودماغ جیتنے کی مہم چھیڑیں:امیر جماعت

فروری 28, 2023
جوہر یونیورسٹی بحران: طلبہ کے دھرنے میں پہنچا جماعت اسلامی ہند کا وفد، گورنر سے مداخلت کی اپیل

جوہر یونیورسٹی بحران: طلبہ کے دھرنے میں پہنچا جماعت اسلامی ہند کا وفد، گورنر سے مداخلت کی اپیل

اترپردیش: اس بار سڑکوں پر نہیں پڑھی جائے گی جمعۃ الوداع کی نماز: علما کی اپیل

136 سال پرانی تاریخی مسجد میں داخلہ بند، نماز پر بھی پابندی!

Easy SIR Form Filing

بھارت میں مسلم ووٹروں کے نام ووٹر لسٹ سے نکالے جا رہے ہیں؟ UN کی رپورٹ میں بھارت کے SIR عمل پر سوالات

ہندو سے مسلمان بننے والوں کو بھی ریزرویشن؟ تمل ناڈو حکومت سپریم کورٹ پہنچ گئی

ہندو سے مسلمان بننے والوں کو بھی ریزرویشن؟ تمل ناڈو حکومت سپریم کورٹ پہنچ گئی

جوہر یونیورسٹی بحران: طلبہ کے دھرنے میں پہنچا جماعت اسلامی ہند کا وفد، گورنر سے مداخلت کی اپیل

جوہر یونیورسٹی بحران: طلبہ کے دھرنے میں پہنچا جماعت اسلامی ہند کا وفد، گورنر سے مداخلت کی اپیل

جولائی 22, 2026
اترپردیش: اس بار سڑکوں پر نہیں پڑھی جائے گی جمعۃ الوداع کی نماز: علما کی اپیل

136 سال پرانی تاریخی مسجد میں داخلہ بند، نماز پر بھی پابندی!

جولائی 13, 2026
Easy SIR Form Filing

بھارت میں مسلم ووٹروں کے نام ووٹر لسٹ سے نکالے جا رہے ہیں؟ UN کی رپورٹ میں بھارت کے SIR عمل پر سوالات

جولائی 12, 2026
ہندو سے مسلمان بننے والوں کو بھی ریزرویشن؟ تمل ناڈو حکومت سپریم کورٹ پہنچ گئی

ہندو سے مسلمان بننے والوں کو بھی ریزرویشن؟ تمل ناڈو حکومت سپریم کورٹ پہنچ گئی

جولائی 10, 2026

حالیہ خبریں

جوہر یونیورسٹی بحران: طلبہ کے دھرنے میں پہنچا جماعت اسلامی ہند کا وفد، گورنر سے مداخلت کی اپیل

جوہر یونیورسٹی بحران: طلبہ کے دھرنے میں پہنچا جماعت اسلامی ہند کا وفد، گورنر سے مداخلت کی اپیل

جولائی 22, 2026
اترپردیش: اس بار سڑکوں پر نہیں پڑھی جائے گی جمعۃ الوداع کی نماز: علما کی اپیل

136 سال پرانی تاریخی مسجد میں داخلہ بند، نماز پر بھی پابندی!

جولائی 13, 2026
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein

روزنامہ خبریں مفاد عامہ ‘ جمہوری اقدار وآئین کی پاسداری کا پابند ہے۔ اس نے مختصر مدت میں ہی سنجیدہ رویے‘غیر جانبدارانہ پالیسی ‘ملک و ملت کے مسائل معروضی انداز میں ابھارنے اور خبروں و تجزیوں کے اعلی معیار کی بدولت سماج کے ہر طبقہ میں اپنی جگہ بنالی۔ اب روزنامہ خبریں نے حالات کے تقاضوں کے تحت اردو کے ساتھ ہندی میں24x7کے ڈائمنگ ویب سائٹ شروع کی ہے۔ ہمیں یقین ہے کہ یہ آپ کی توقعات پر پوری اترے گی۔

اہم لنک

  • ABOUT US
  • SUPPORT US
  • TERMS AND CONDITIONS
  • PRIVACY POLICY
  • GRIEVANCE
  • CONTACT US
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے

.ALL RIGHTS RESERVED © COPYRIGHT ROZNAMA KHABREIN

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In

Add New Playlist

کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے

.ALL RIGHTS RESERVED © COPYRIGHT ROZNAMA KHABREIN