اردو
हिन्दी
مئی 9, 2026
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں

تاریخ کے نام پر تاریکی پھیلانے کی مہم

4 سال پہلے
‏‏‎ ‎‏‏‎ ‎|‏‏‎ ‎‏‏‎ ‎ فکر ونظر, مضامین
A A
0
تاریخ کے نام پر تاریکی پھیلانے کی مہم
66
مشاہدات
Share on FacebookShare on TwitterShare on Whatsapp

تحریر:مولانا عبد الحمید نعمانی

بھارت میں زیادہ تر فرقہ وارانہ تنازعات برٹش دور میں پیدا ہوئے بلکہ سامراجی مقاصد کے تحت پیدا کیے گئے ، اکثریتی سماج میں تاریخی حقائق و واقعات کو تنقیح و تحقیق کے ساتھ سامنے لانے کا رجحان قدیم ماضی سے ہی بہت کم پایا جاتا ہے مسلمانوں کی آمد کے ساتھ اور بعد میں بھی تاریخ نویسی کی طرف قدرے رجحان پیدا ہونا شروع ہوا، اکثریتی سماج میں کہانیوں اور افسانوں کو خاص طرح کی عقیدت و رومانیت کا تڑکا لگا کر سامنے لانے اور پھیلانے کا زبردست چلن ماضی سے حال تک کھلی آنکھوں سے دیکھا جا سکتا ہے ، اگر یہ رجحان اپنے دائرے میں ہو تو زیادہ قابل اعتراض نہیں ہے ، اسے اپنی اپنی پسند اور اپنی اپنی نظر کے زمرے میں رکھا جا سکتا ہے ۔

ایک آزاد مہذب سماج ،کسی بھی چیز کو ماننے اور اپنی عملی زندگی میں شامل کرنے اور ترک کرنے کے لیے آزاد ہے ، خصوصاً بھارت کے مخصوص ماحول میں اختیار و ترک کی بڑی آزادی نظر آتی ہے ، بہت سے ہندو دانشور ، مصنفین اور رہ نما اس آزادی کو خوبی کے طور پر پیش کر تے ہیں ، ایسی حالت میں کسی بھی تصور و نظریہ اور آستھا کا دیگر کو زبردستی پابند بنانے کے رجحان و عمل کا کوئی جواز نہیں ہے ، لیکن مخصوص طرح کے تصورات و رجحانات کے تحت بھارت میں ہندو سنسکرتی ، بھارتیہ تہذیب و تاریخ کے تحفظ و تبلیغ اور احیاءکے نام پر پورے ملک کے باشندوں کو ہندو تو کے رنگ میں رنگنے اور اس کے دائرے میں لانے کی کوششیں کی جارہی ہیں اور ایک الگ طرز و طریقے کی تاریخ لکھنے اور بنانے کی مہم زوروں پر ہے ، یہ تاریخ نگاری نہیں بلکہ تاریخ گھڑنے اور تاریخ سازی کا غلط رجحانات پر مبنی جارحانہ مکروہ عمل ہے ، اس میں تنگ نظری ، جذبہ حسد اور مذموم فرقہ وارانہ ذہنیت کا بڑا عمل دخل ہے ۔

یہ اصلا ً تاریخ اور تہذیب کے احیاءو واپسی کے نام پر تو ہم اور تاریکی پھیلا کر اپنے سماج میں بڑی جگہ بناتے ہوئے ملک کے خوبصورت تنوعات اور رنگا رنگی ختم کرنے کا کھیل ہے ، اگر اسے سنجیدگی سے ختم کرنے کی موثر کوشش نہیں کی گئی تو بھارت میں اکثریت پرستی پرمبنی تفوق و بالاتری کا تباہ کن ایسا نہ ختم ہونے والا سلسلہ شروع ہوجائے گا جو جمہوری اور مہذب آزاد و معاشرے کی تشکیل کے بجائے ، تخریب و انہدام کا عمل ملک کی سیاسی و سماجی تہذیب کی شناخت بن جائے گا ، بلڈوزر تہذیب ،انصاف کی علامت بن جانا، کسی بھی مہذب معاشرے کے لیے ایک شرمناک بات ہے ، یہ تشویش کی بات ہے کہ تخریب و انہدام کا رجحان بڑی تیزی سے فروغ پارہا ہے ، اور یہ مذموم و مکروہ رجحان ، تہذیب و تاریخ کے انہدام اور معاشرے کی بربادی اور تمدنی وتہذیبی ورثے کو تباہ کر کے فرقہ وارانہ ذوق کی تسکین تک پہنچ گیا ہے ، پرانے معابدوماثر (عبادت گاہ ویادگار) کی کھدائی کے مطالبات یقینی طو رپر تخریبی ذہنیت کی پیداوار ہیں ، تاریخی بابری مسجد کے انہدام کے بعد اس کی جگہ اکثریت کے فرقہ وارانہ رجحان کے مطابق مندر کی تعمیر کے لیے راہ ہموار کرنا، دو ررس انجام کا تباہ کن آغاز ہے ، اس نے فرقہ پرست عناصر کی حوصلہ افزائی اور فرقہ وارانہ بھوک کو بڑھانے کا کام کیا ہے ۔

فرقہ پرست سامراج وادی مورخین و مصنفین نے بھی فرقہ وارانہ رجحانات کو تقویت دینے کے ساتھ سماج کی مذموم تقسیم کی راہ ہموا ر کرنے میں کوئی کور کسر نہیں چھوڑ ی ہے ، جس طور سے تاریخ کو اصل واقعات کے منظر ، پس منظر اور اسباب و علل کو نظر انداز کر کے ماضی میں پیش کیا گیا اور آج بھی پیش کیا جا رہا ہے ، اس نے مذہبی فرقہ وارانہ نفرت و عداوت کو بڑھانے کا کام کیا ہے ۔ سامراج وادی مورخین کے سامراجی مقاصد و اغراض کے مد نظر گمراہ کن تاریخ نویسی کی کو رانہ تقلید اور غلامانہ رجحانات نے مختلف فرقوں میں قربت و یکجہتی کے جذبے کو ختم کر کے باہمی منافرت کی آب یاری کی ہے ، جدو ناتھ سرکار ،ایشوری پرساد ،آرایس مجمدارجیسے مصنّفین نے مسلم حکمرانوں ، خصوصاً محمد بن قاسم، اورنگ زیب اور ٹیپو سلطان وغیرہم کی زندگی ، حکومت اور طرز حکومت پر بحث کرتے ہوئے جس طرح کے تبصرے و تجزیے کیے ہیں ، ان سے بسا اوقات تاریخ کی روشنی ملنے کے بجائے قارئین کو تاریکی سے واسطہ پڑتا ہے ، انھوں نے تاریخی حقائق پیش کرنے کے نام پر متعلقہ تاریخی شخصیات کے مذہب جسے دیگر کی بڑی تعداد بھی مانتی ہے کو نشانہ بنایا ہے ، مثلاً سرجدو ناتھ سرکار جنھوں نے اورنگ زیب پر سب سے زیادہ کام کیا ہے ، اپنی کتاب میں لکھتے ہیں :

”ایک مذہب جو اپنے پیروؤں کو ڈاکہ زنی اور قتل کو مذہبی فریضہ سمجھنے کی تلقین کرتا ہو وہ انسانیت کی ترقی اور دنیا کے امن کا ساتھ نہیں دے سکتا ہے ۔‘‘ (اورنگ زیب جلد 3 صفحہ 264 سے 268)

ظاہر ہے کہ یہ وصل کے بجائے فصل کی کوشش اور اورنگ زیب کے بجائے اس کے مذہب پر کھلا حملہ ہے ، جدو ناتھ سرکار یونی ورسٹی کے وائس چانسلر اور درس و تدریس کا مشغلہ رکھتے تھے ، اس غلط رجحان کا اثر طلبہ ، نوجوان نسل اور اساتذہ پر لازماً پڑا ہوگا اور بلکہ پڑا ہے ، ملک کی کئی یونی ورسٹیوں کے بہت سے اساتذہ کو دیکھا جا سکتا ہے کہ وہ کس قدر فرقہ وارانہ نفرت کا اظہار کرتے ہیں حتی کہ دہلی یونی ورسٹی کے کئی پروفیسر کھلے عام آر، ایس ایس وچارک و حامی کہتے ہوئے اسلام اور مسلمانوں کے خلاف زہر افشانی آئے دن کرتے رہتے ہیں ،وہ اسلام کا رشتہ دہشت گردی سے جوڑتے ہوئے مسلمانوں کو ادھرمی اور ملیچھ آج بھی کہتے ہیں ۔

دہلی یونیورسٹی کے پروفیسر سنگیت راگی وغیرہ کے ٹی وی چینلز کے آئے دن کے جارحانہ تبصرے کو دیکھا سنا جا سکتا ہے ، ایسے لوگوں کی اپنی کوئی غیر جانب دارانہ منصفانہ تحقیق نہیں ہے ، بلکہ پہلوں کے جھوٹے لقمے کی جگالی بھر کرتے ہیں ، حال کے ایک ٹی وی مباحثے میں پروفیسر راگی نے مسلم حکمرانوں کو ملیچھ قرار دیتے ہوئے کہا کہ تمام ان معابد و ماثر کو واپس لیا جائے گا، جو مبینہ طور پر ہندو معابد و ماثر پر بنے ہیں ، یہ تاریخ کے نام پر تاریکی پھیلانے کی مہم ہے ، جدو ناتھ سرکار کی زیادہ تر تحریریں برٹش سامراج کے دور ، آزادی سے پہلے کی ہیں ،لیکن آزادی کے بعد سے مسلسل مسلمانوں کو ملک کا داخلی خطرہ اور ملیچھ اور بھارت کے لیے مسئلہ و المیہ بنا کر پیش کیا جا رہا ہے۔

اس کے لیے گرو گولولکر کی ”بنچ آف ٹھاٹس“، رام دھاری سنگھ دنکر کی ”بھارتیہ ایکتا، راشٹریہ ایکتا“اور آر ، ایس مجمدار کی” ہسٹری اینڈ کلچر آف انڈین پیپل“کو دیکھا جا سکتا ہے، ںمجمدار نے کھلے طور سے مسلمانوں کو ملیچھ قرار دے کر ان کی ہندستان میں آمد کو المیہ لکھا ہے ، اس کے پیش نظر شدت سے ضرورت محسوس ہوتی ہے کہ تاریخ کے نام پر تاریک رجحانات کا تاریخی و علمی تجزیہ کر کے اسے سامنے لایا جائے ،اس پر معروف مسلم تنظیموں اور اداروں کو سنجیدہ توجہ دے کر کام کو آگے بڑھانا چاہیے ،اس کے بغیر تاریخ کے نام پر تاریکی پھیلانے کی مہم پر قدغن نہیں لگ سکتا ہے ۔

noumani.aum@gmail.com

(یہ مضمون نگار کے ذاتی خیالات ہیں)

قارئین سے ایک گزارش

سچ کے ساتھ آزاد میڈیا وقت کی اہم ضرورت ہےـ روزنامہ خبریں سخت ترین چیلنجوں کے سایے میں گزشتہ دس سال سے یہ خدمت انجام دے رہا ہے۔ اردو، ہندی ویب سائٹ کے ساتھ یو ٹیوب چینل بھی۔ جلد انگریزی پورٹل شروع کرنے کا منصوبہ ہے۔ یہ کاز عوامی تعاون کے بغیر نہیں ہوسکتا۔ اسے جاری رکھنے کے لیے ہمیں آپ کے تعاون کی ضرورت ہے۔

سپورٹ کریں سبسکرائب کریں

مزید خبریں

US Iran War Strategic Defeat News
مضامین

امریکہ – اسرائیل – ایران جنگ میں امریکہ کی اسٹریٹجک ہار پہلے سے طے

23 مارچ
Hormuz Strait Iran Speech
مضامین

ایران میں قیادت کی تبدیلی اور مجتبیٰ خامنہ ای: ایک تجزیاتی مطالعہ

12 مارچ
Modi Israel Gaza Questions Debate
مضامین

پی ایم مودی کے دورہ اسرائیل میں غزہ کے مصائب کا ذکر تک نہ ہونے پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔ کیا چاہتا ہے بھارت ؟

28 فروری
  • ٹرینڈنگ
  • تبصرے
  • تازہ ترین
Humayun Kabir Owaisi Video Row

ہمایوں کبیر کے خفیہ ویڈیو نے اویسی پر بی جے پی کی بی ٹیم کے الزام کو تقویت دی، اتحاد ٹوٹا ، سیاسی بصیرت پر بھی سوال

اپریل 10, 2026
طالبان ميں پھوٹ کی خبريں، حقيقت يا پروپيگنڈہ؟

طالبان ميں پھوٹ کی خبريں، حقيقت يا پروپيگنڈہ؟

ستمبر 19, 2021
یوپی کے 558 مدارس میں مڈ ڈے میل کون کھا رہا ہے؟ چونکاتی گراؤنڈ رپورٹ

یوپی کے 558 مدارس میں مڈ ڈے میل کون کھا رہا ہے؟ چونکاتی گراؤنڈ رپورٹ

اپریل 10, 2026
DD News Anchor Controversy News

پبلک ٹیکس سے چلنے والے ‘ڈی ڈی نیوز’ کے اینکر نے کہا” ساورکر کے چپل کی دھول بھی نہیں راہل گادھی

اپریل 13, 2026
امریکہ ایران کشیدگی خبر

امریکہ–ایران کشیدگی ایک بار پھر سرخیوں میں، جنگ بندی میں توسیع کے باوجود بڑے معاہدے کا مستقبل خطرے میں

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

دہلی میں بڑھتے جرائم پولیس الرٹ

دہلی-NCR میں جرائم کے واقعات میں اضافہ، پولیس الرٹ

امریکہ ایران کشیدگی خبر

ایران–امریکہ مذاکرات میں محدود پیش رفت، اختلافات بدستور برقرار: قالیباف

امریکہ ایران کشیدگی خبر

امریکہ–ایران کشیدگی ایک بار پھر سرخیوں میں، جنگ بندی میں توسیع کے باوجود بڑے معاہدے کا مستقبل خطرے میں

اپریل 22, 2026
الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

اپریل 21, 2026
دہلی میں بڑھتے جرائم پولیس الرٹ

دہلی-NCR میں جرائم کے واقعات میں اضافہ، پولیس الرٹ

اپریل 21, 2026
امریکہ ایران کشیدگی خبر

ایران–امریکہ مذاکرات میں محدود پیش رفت، اختلافات بدستور برقرار: قالیباف

اپریل 19, 2026

حالیہ خبریں

امریکہ ایران کشیدگی خبر

امریکہ–ایران کشیدگی ایک بار پھر سرخیوں میں، جنگ بندی میں توسیع کے باوجود بڑے معاہدے کا مستقبل خطرے میں

اپریل 22, 2026
الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

اپریل 21, 2026
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein

روزنامہ خبریں مفاد عامہ ‘ جمہوری اقدار وآئین کی پاسداری کا پابند ہے۔ اس نے مختصر مدت میں ہی سنجیدہ رویے‘غیر جانبدارانہ پالیسی ‘ملک و ملت کے مسائل معروضی انداز میں ابھارنے اور خبروں و تجزیوں کے اعلی معیار کی بدولت سماج کے ہر طبقہ میں اپنی جگہ بنالی۔ اب روزنامہ خبریں نے حالات کے تقاضوں کے تحت اردو کے ساتھ ہندی میں24x7کے ڈائمنگ ویب سائٹ شروع کی ہے۔ ہمیں یقین ہے کہ یہ آپ کی توقعات پر پوری اترے گی۔

اہم لنک

  • ABOUT US
  • SUPPORT US
  • TERMS AND CONDITIONS
  • PRIVACY POLICY
  • GRIEVANCE
  • CONTACT US
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے

.ALL RIGHTS RESERVED © COPYRIGHT ROZNAMA KHABREIN

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In

Add New Playlist

کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے

.ALL RIGHTS RESERVED © COPYRIGHT ROZNAMA KHABREIN