نئی دہلی :(ایجنسی)
پارلیمنٹ کے بجٹ اجلاس میں ایک سوال کے جواب میں مرکزی وزارت داخلہ نے کہا کہ تین سالوں میں تقریباً 10 ہزار لوگوں نے بے روزگاری کی وجہ سے خودکشی کرلی۔ مرکزی حکومت کے اس جواب کے بعد اپوزیشن کے ممبران پارلیمنٹ نے بے روزگاری کے معاملے پر مرکزی حکومت کو جمل کر گھیرا۔ دریں اثنا، بی جے پی رکن پارلیمنٹ نے جمعرات کو راجیہ سبھا میں کہا کہ امبانی اور اڈانی کی پوجا کی جانی چاہیے۔ کیونکہ وہ لوگوں کو نوکریاں دے رہے ہیں۔
جمعرات کو حکمران پارٹی اور اپوزیشن کے درمیان بے روزگاری پر گرما گرم بحث کے درمیان، بی جے پی کے ایم پی کے جے الفونس نے بحث میں حصہ لیتے ہوئے کہا کہ آپ مجھ پر سرمایہ داروں کے چاپلوش ہونے کاالزام لگا سکتے ہیں۔ جن لوگوں نے اس ملک میںنوکریاں پیدا کی ہیں، میں ان لوگوںکا نام لیتا ہوں کیونکہ آپ نےبھی ان لوگوں کا نام لیاہے ۔چاہے وہ ریلائنس ہو، امبانی ہو، اڈانی ہو، کوئی بھی ہو، ان کی پوجا کی جانی چاہیے، کیونکہ وہ روزگار کے مواقع پیدا کرتے ہیں۔ جو لوگ پیسہ لگاتے ہیں، چاہے وہ امبانی ہوں یا اڈانی، اس ملک میں پیسہ بنانے والا ہر صنعت کار روزگار پیدا کرتا ہے۔ انہوں نے روزگار کے مواقع پیدا کیے ہیں۔ اس لیے ان کا احترام کرنے کی ضرورت ہے۔
کے جےالفونس نے اس دوران یہ بھی کہاکہ عالمی عدم مساوات ایک حقیقت ہے۔ اپوزیشن کا کہنا ہے کہ دو افراد کے اثاثوں میں اضافہ ہوا ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ ایلون مسک کی دولت میں 1016 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ کیا آپ اس سے واقف تھے؟ گوگل کے بانی لیری پیج کی دولت میں بھی 126 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ بیزوس کی دولت میں بھی 67 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ بل گیٹس ان تمام ٹاپ 10 میں سب سے نیچے ہیں۔ ان کی دولت میں صرف 30 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ عالمی عدم مساوات ایک حقیقت ہے، چاہے آپ اسے قبول کریں یا نہ کریں۔ دنیا میں تین ارب لوگ روزانہ پانچ ڈالر سے بھی کم آمدنی پر گزارہ کرتے ہیں۔ لہٰذا عالمی عدم مساوات ایک حقیقت ہے۔
اسی دوران بجٹ پر بحث کے دوران آر جے ڈی کے رکن پارلیمنٹ منوج کمار جھا نے حکومت کو نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ حکومت نے اسے لافانی دور کا بجٹ قرار دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب میں گزشتہ چند سالوں میں اس حکومت کے کام کرنے کے انداز کو دیکھتا ہوں تو پتہ چلتا ہے کہ کس کو امرت مل رہی ہے اور کس کو زہر مل رہا ہے۔ امرت حکومت کے دوستوں کے لیے ہے اور وافر مقدار میں سپلائی ہے لیکن اکثر لوگوں کو صرف زہر ہی مل رہا ہے۔










