سہارنپور:(نامہ نگار)
اترپردیش اسمبلی انتخابات کے پہلے اور دوسرے مرحلے کے لیے پارٹیوں کے ذریعہ اپنے امیدواروںکا اعلان کیا جار ہاہے، اسی سلسلے میں اتوار کو آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین (اے آئی ایم آئی ایم) نے اتوار کو اپنے 9 امیدواروں کی پہلی فہرست بھی جاری کی جس میں بیہٹ اور سہارنپور دیہات شامل ہیں۔
آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین نے سہارنپور کی بیہٹ اسمبلی سیٹ سے امجد علی کو میدان میں اتارا ہے ،جبکہ سہارنپور دیہات سے مرغوب حسن کو ٹکٹ دیا گیا ہے۔

پارٹی کے ریاستی دفتر سے ریاستی صدر شوکت علی کی طرف سے جاری کردہ فہرست میں غازی آباد کے لونی سے ڈاکٹر مہتاب، ہاپوڑ کے گڑھ مکتیشور سے فرقان چودھری، ہاپوڑ کے ڈھولانہ سے حاجی عارف، میرٹھ سول خاص سے رفعت خان، میرٹھ سردھنہ سے ذیشان عالم،میرٹھ کٹھور سے تسلیم احمد ،سہارنپورکے بیہٹ سے امجد علی، بریلی کے برولی 124 سےشاہین رضا ن راجو اورسہارن پور دیہات سے مرغوب حسن کو اسمبلی انتخابات میں آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین نے اپنا امیدوار بنایاہے۔
بتادیں کہ آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین نے ریاست میں 100 سیٹوں پر الیکشن لڑنے کا اعلان کیا تھا، اس کے بعد پارٹی کے سربراہ اور ایم پی اسد الدین اویسی یوپی کی مختلف اسمبلی سیٹوں پر انتخابی میٹنگ کر رہے تھے اور کئی پارٹیوں کے ساتھ اتحاد کی قیاس آرائیاں بھی چل رہی تھیں۔ ان کا کسی کے ساتھ اتحاد نہیں ہواہے، اسدالدین اویسی نے سہارنپور میں گزشتہ دو ماہ میں دو جلسے کیے ہیں۔ غور طلب ہے کہ اسد الدین اویسی مسلم اکثریتی سیٹوں پر اپنے امیدوار کھڑے کر رہے ہیں۔
دریں اثناء معروف تجزیہ نگار عبید اقبال عاصم کا کہنا ہے کہ یہ تمام سیٹیں وہ ہیں جہاں سے ان علاقوں کے مسلم چہرےکسی نہ کسی بڑی سیاسی جماعت سے میدان میں آچکے ہیں۔ یہاں تو مجلس کو غیر مسلم امیدواروں کو میدان میں لانا چاہئے تھا تا کہ اس کی سیکولرامیج بھی بنتی لیکن افسوس کہ ان میں سے ایک بھی جگہ پر کسی غیر مسلم کو امیدوار نہیں بنایا گیا اور نہ ہی کسی علاقے کی معروف ومشہور یا عظیم ترین شخصیت کو ٹکٹ دیا گیا۔
اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ مجلس صرف نام چارے کے لئے بھرتی کے امیدوار بھر رہی ھے مقصد الیکشن جیتنا نہیں بلکہ مسلم امیدواروں کے ووٹ میں سیندھ لگا کر دانستہ یا نادانستہ بی جے پی کی راہیں ہموار کرنا ہے ۔











