لکھنؤ:(ایجنسی)
کاس گنج پولیس حراست میں موت کے معاملے میں ہائی کورٹ نے الطاف کا دوبارہ پوسٹ مارٹم کرنے کا حکم دیا ہے۔ عدالت کے حکم کے بعد پوسٹ مارٹم ایمس کے ڈاکٹروں کی نگرانی میں کیا جائے گا۔ الطاف کی موت پولیس حراست میں ہوئی تھی، اس کی موت کے بعد اہل خانہ نے پولیس پر سوال اٹھایا تھا۔
درخواست گزار کی وکیل نے مانگ کی تھی کہ الطاف کے اہل خانہ اس کی موت کے فوراً بعد کے گئےپوسٹ مارٹم سے مطمئن نہیں ہیں۔ اس لیے ان کا مطالبہ ہے کہ مقتول کی لاش کو قبر سے نکال کر دوبارہ پوسٹ مارٹم کیا جائے۔ ساتھ ہی ان کا مطالبہ تھا کہ پوسٹ مارٹم دہلی سے باہر کیا جائے۔
بتادیں کہ کاس گنج میں لڑکی کے لاپتہ ہونے کے بعد پولیس نے الطاف نامی نوجوان کو حراست میں لیا تھا۔ نوجوان پر الزام تھا کہ اس نے لڑکی کو بھگانے کا کام کیا ہے۔ لیکن حراست میں لینے کے بعد نوجوان کی موت ہو گئی۔
اہل خانہ نے الزام لگایا تھا کہ پوچھ گچھ کے دوران نوجوان کو پولیس نے وحشیانہ تشدد کا نشانہ بنایا جس کی وجہ سے اس کی موت ہوگئی۔ تاہم پولیس کا کہنا تھا کہ الطاف نے باتھ روم میں دو فٹ اونچے ٹونٹی سے لٹک کر اپنی جان لے لی۔
کیا تھی پولیس تھیوری ؟
الطاف کی موت کے واقعے کے فوراً بعد پولیس نے کہا تھا کہ الطاف نے چوکی میں لگے ڈھائی فٹ کے نل سے لٹک کر خودکشی کی۔ اس کے بعد لوگوں نے پولیس کی اس تھیوری پر کئی سوالات اٹھائے۔ اہل خانہ نے الزام لگایا کہ پولیس رات گئے الطاف کو اٹھا کر لے گئی اور تھانے میں موت کے بعد اہل خانہ کو کوئی خبر نہیں دی گئی۔
الطاف کی والدہ نے دی کوئنٹ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پولیس نے کچھ نہیں بتایا، کوئی خبر نہیں دی گئی۔ یہاں تک کہ جب ہم نے صحافیوں کے ذریعے خبر سنی تو ہمیں بچے سے ملنے تک نہیں دیا گیا۔
الطاف کی لاش کا پوسٹ مارٹم ہونے کے بعد پولیس نے اس کی لاش کو جلد بازی میں دفنانے کے لیے دباؤ ڈالا تھا۔ الطاف کے دادا محمد ناظم نے بتایا تھا کہ پولیس والے کسی کو جانے نہیں دے رہے تھے… یہاں تک کہ جب ہم لاش یہاں لائے تھے تو انتظامیہ نے اسی وقت کہنا شروع کردیا کہ جلدی کرو۔










