مظفر نگر :(ایجنسی)
ہفتہ کے روز، اتر پردیش کے مظفر نگر میں، مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے ووٹر ڈائیلاگ کے ایک موثر پروگرام سے خطاب کرتے ہوئے سابقہ حکومتوں کو شدید نشانہ بنایا۔ ساتھ ہی انہوں نے 2013 میں مظفر نگر فسادات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ فسادات کو بھلا دیا گیا، اگر آپ نے ووٹ دینے میں غلطی کی تو یہ شہر پھر سے جل اٹھے گا۔
مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے مظفر نگر میں منعقد ایک پروگرام میں کہا کہ میں مظفر نگر سے سہارنپور تک کے لوگوں سے پوچھنا چاہتا ہوں کہ کیا آپ سب فسادات کو بھول گئے ہیں، اگر نہیں تو ووٹ دینے میں غلطی نہ کریں، ورنہ مظفر نگر پھر سے جل اٹھےگا۔ ساتھ ہی انہوں نے ایس پی پر حملہ بولتے ہوئے کہا کہ سماج وادی پارٹی نے جس طرح ٹکٹوں کا تقسیم کیا ہے، اس سے صاف ہو گیا ہے کہ وہ کیا چاہتے ہیں۔
اس دوران انہوں نے پچھلی حکومتوں پر نشانہ سادھتے ہوئے کہا کہ یہاں پہلے ایس پی-بی ایس پی کی حکومت تھی، جب بہن جی کی پارٹی آتی تھی تو ایک ذات کی بات کرتی تھی، جب کانگریس پارٹی آتی تھی تو پریوار کی بات کرتی تھی اور اکھلیش آتے تھے تو وہ یہاں غنڈوں، مافیا اور خوشامد کی بات کرتے تھے۔ امت شاہ نے یہ بھی کہا کہ پچھلی حکومتوں میں غنڈوں، مافیا نے ریاست کو قبضہ میں لے رکھاتھا، لوگ ہر جگہ غیر محفوظ تھے، لیکن جب سے بی جے پی کی حکومت بنی ہے، ریاست کے تمام غنڈے اور مافیا باؤنڈری پار چلے گئےہیں۔
قابل ذکر بات یہ ہے کہ یہ فساد اگست 2013 میں مظفر نگر ضلع کے کوال گاؤں میں جاٹ اور مسلم برادریوں کے درمیان تشدد کے بعد شروع ہوا تھا، جس میں تقریباً 62 افراد اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ مغربی اتر پردیش میں حالات اتنے خراب ہو چکے تھے کہ فوج کو بھی بلانا پڑا۔ فسادات پر قابو پانے کے لیے تقریباً 15000 سیکورٹی فورسز کو تعینات کیا گیا تھا۔ مظفر نگر اور شاملی اضلاع میں 20 دن کے لیے کرفیو نافذ کیا گیا تھا۔ اس ہنگامے میں دو صحافی بھی مارے گئے تھے۔











