لکھنؤ:(ایجنسی)
اترپردیش میں اسمبلی انتخابات سے پہلے بی جے پی کے اراکین اسمبلی و یوگی حکومت کے وزراء کے استعفیٰ کا سلسلہ لگاتار جاری ہے اسی کڑی میں یوگی حکومت میں محکمہ آیوش، فوڈ سیفٹی اور ڈرگ ایڈمنسٹریشن کے وزیر مملکت (آزادانہ چارج) ڈاکٹر دھرم سنگھ سینی نے جمعرات کو اپنے عہدے سے استعفیٰ دےدیا گزشتہ تین دنوں میں یوگی حکومت کے یہ تیسرے وزیر کا استعفیٰ ہے ضلع سہارنپور کے نکڑ سیٹ کی نمائندگی کرنے والے ڈاکٹر سینی نے گورنر آنندی بین پٹیل کو بھیجے استعفے میں کہا کہ وزیر کی حیثیت سے میں نے پوری جتن سے اپنے فرائض کی ادائیگی کی کوشش کی ہے۔ سینی بھی دیگر وزراء کی طرح بی جے پی حکومت میں دلتوں، پسماندہ طبقات اور اقلیتوں کو نظر انداز کئے جانے کا الزام لگاتے ہوئے استعفیٰ دیا ہے۔
انہوں نے استعفیٰ میں لکھا’جن توقعات کے ساتھ دلتوں، پسماندہ طبقات، کسانوں، تعلیم یافتہ بے روزگار، چھوٹے اور متوسط طبقے کے کاروباریوں نے مل کر بی جے پی کو مکمل اکثریت کی حکومت بنانے کا کام کیا۔ ان کی اور دیگر عوامی نمائندوں کے تئیں لگاتار نظراندازی کے رویہ کی وجہ سے یوپی کے کابینہ سے استعفیٰ دیتا ہوں۔‘
قابل ذکر ہے کہ منگل کو وزیر مزدور سوامی پرساد موریہ کے استعفیٰ کے بعد بدھ کو وزیر جنگلات دارا سنگھ چوہان نے وزارت سے استعفیٰ دے دیا تھا۔ جمعرات کو استعفیٰ دینے والوں میں سینی کے علاوہ بی جے پی کے دو اراکین ونئے شاکیہ اور ڈاکٹر مکیش ورما بھی شامل ہیں۔
ڈاکٹر سینی کے استعفیٰ کے فیصلے کا سماج وادی پارٹی(ایس پی) سربراہ اکھلیش یادو نے استقبال کیا ہے۔ انہوں نے ڈاکٹر سینی کے ساتھ اپنی تصویر ٹوئٹ پر شیئر کرتے ہوئے کہا’ سماجی انصاف‘ کے ایک اور سپاہی ڈاکٹر دھرم سنگھ سینی جی کے آنے سے سب کا میل۔ ملاپ ۔ملن کرنے والی ہماری’مثبت اور پرترقی پذیر سیاست‘ کو مزید تقویت ملی ہے۔ایس پی میں ان کا احترام و پرتپاک استقبال ہے۔
دلچسپ ہے کہ دو دن قبل سینی نے سوامی پرساد موریہ کے دعوی کو خارج کیا تھا جس میں انہوں نے ان کے بی جے پی چھوڑ کر ایس پی میں شمولیت کا دعوی کیا تھا۔سینی پسماندہ طبقات کے بڑے لیڈر ہیں۔ وہ چار دفعہ کے ایم ایل اے رہ چکے ہیں۔گذشتہ بار انہوں نے ضلع سہارن پور کے ناکڑ سیٹ سے جیت درج کی تھی۔ اس سے پہلے آج ہی بی جے پی کے دو اراکین اسمبلی مکیش ورما فیروزآباد کی شکوہا آباد اور اوریا کی بدھونا سیٹ سے ونئے شاکیہ نے پارٹی کی پرائمری ممبر شپ سے استعفیٰ دیا ہے۔
قابل ذکر ہے کہ دھرم سنگھ سینی 2002 میں سرساوا سیٹ سے بی ایس پی کے ٹکٹ پر پہلی مرتبہ ممبر اسمبلی بنے تھے ۔ اس کے بعد 2007 میں دوبارہ سرساوا سے بی ایس پی کے ٹکٹ پر ممبر اسمبلی بنے اور بی ایس پی حکومت میں کابینہ وزیر ( بنیادی تعلیم کے وزیر) رہے ۔ اس کے بعد 2012 میں تیسری مرتبہ بی ایس پی کے ٹکٹ پر ہی نکوڑ سے ممبر اسبملی بنے اور پبلک اکاونٹس کمیٹی کے چیئرمین رہے ۔اس کے بعد 2017 میں انہوں نے بی جے پی کا دامن تھام لیا اور نکوڑ سے ممبر اسبملی بنے ۔ وہیں بی جے پی نے ان کو آیوش وزیر کے عہدہ سے نوازا تھا ۔ اس مرتبہ وہ پارٹی بدل کر سماجوادی پارٹی میں شامل ہوگئے ہیں ۔ ذرائع کی مانیں تو وہ گزشتہ کافی عرصہ سے سماجوادی پارٹی کے سربراہ اور یوپی کے سابق وزیر اعلی اکھلیش یادو کے رابطے میں تھے ۔
بی جے پی چھوڑنے والے ممبران اسمبلی کی فہرست
سوامی پرساد موریہ
بھگوتی ساگر
روشن لال ورما
ونے شاکیا
اوتار سنگھ بھڈانہ
دارا سنگھ چوہان
برجیش پرجاپتی
مکیش ورما
راکیش راٹھور
جئے چوبے
مادھوری ورما
آر کے شرما
بالا پرساد اوستھی
ڈاکٹر دھرم سنگھ سینی۔











