نئی دہلی ؍لکھنؤ :(ایجنسی)
اترپردیش میں دوسرے مرحلے کی 55 اسمبلی سیٹوں کے لیے انتخابی مہم کا شور آج شام 5 بجے تھم گیا۔ اتراکھنڈ اور گوا میں بھی سنگل فیز اسمبلی انتخابات کی مہم کا آج آخری دن تھا۔ شام پانچ بجے ان دونوں ریاستوں میں انتخابی مہم کا شور بھی تھم گیا۔ بتا دیں کہ یوپی میں 7 مرحلوں پر مشتمل اسمبلی انتخابات کے پہلے مرحلے میں 58 سیٹوں پر 10 فروری کو ووٹنگ ہو چکی ہے، جبکہ دوسرے مرحلے کے تحت 55 سیٹوں کے لیے 14 فروری کو ووٹ ڈالے جائیں گے۔ دوسری جانب اتراکھنڈ کی 70 اور گوا کی 40 اسمبلی سیٹوں کے لیے ایک ہی مرحلے میں 14 فروری کو ووٹنگ ہوگی۔
انتخابی مہم کے آخری دن، مختلف سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں نے ہفتہ کو اتر پردیش کی 55، اتراکھنڈ کی 70 اور گوا کی 40 نشستوں کے لیے انتخابی مہم چلائی۔ آخری دن پی ایم مودی نے اتراکھنڈ اور اتر پردیش میں ریلیاں کیں۔ ساتھ ہی مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے بھی آخری دن اتراکھنڈ میں کئی اسمبلی سیٹوں پر پارٹی کے امیدوار کے ساتھ انتخابی مہم چلائی۔ اترپردیش کے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نے انتخابی مہم کے آخری دن یوپی سمیت اتراکھنڈ میں زور لگایا۔
اکھلیش اور پرینکا گاندھی نے بھی جھونکی طاقت
سماج وادی پارٹی کے قومی صدر اکھلیش یادو نے بھی یوپی میں دوسرے مرحلے کے انتخابات کو لے کر آخری دنتیز میٹنگیں کیں۔ پرینکا گاندھی نے اتراکھنڈ میں مختلف اسمبلی سیٹوں پر انتخابی مہم کے آخری دن پارٹی کے امیدواروں کی حمایت میں ووٹوں کی اپیل کی۔
یوپی میں دوسرے مرحلے میں کئی بڑےلیڈروں کی ساکھ داؤ پر
اتر پردیش میں دوسرے مرحلے کے تحت 14 فروری کو 9 اضلاع کی کل 55 اسمبلی سیٹوں کے لیے ووٹنگ ہوگی، لیکن ووٹنگ کے اس دوسرے مرحلے میں اتر پردیش کے کئی بڑے لیڈروں کی ساکھ داؤ پر لگی ہوئی ہے۔ ایک طرف جہاں یوگی حکومت میں وزیر سریش کھنہ ہیں وہیں گلابو دیوی اور بلدیو سنگھ اولکھ میدان میں ہیں۔ دوسری طرف اعظم خاں، سابق وزیر دھرم پال سنگھ سینی، کمال اختر اور محبوب علی جیسے سماج وادی پارٹی کے مضبوط لیڈر ہیں، جن کی قسمت کا فیصلہ 14 تاریخ کو ہونا ہے۔
ان 9 اضلاع کی 55 اسمبلی سیٹوں پر ووٹنگ
انتخابات کے دوسرے مرحلے میں 9 اضلاع (سہارنپور، بجنور، مراد آباد، سنبھل، رام پور، امروہہ، بدایوں، بریلی اور شاہجہاں پور) میں 55 اسمبلی حلقوںمیں کل 586 امیدوار میدان میں ہیں۔ جس میں سب سے زیادہ 15-15 امیدوار کانٹھ، بریلی کینٹ اور شاہجہاں پور میں ہیں۔ انتخابات کے دوسرے مرحلے میں کسی بھی اسمبلی سیٹ پر 15 سے زیادہ امیدوار نہیں ہیں، اس لیے ان تمام اسمبلیوں میں صرف ایک ای وی ایم کا استعمال کیا جائے گا۔ ایک ای وی ایم میں 16 امیدواروں کے نام شامل کیے جا سکتے ہیں۔ دوسرے مرحلے میں 8 اسمبلی سیٹیں ریزرو کیٹیگری میں ہیں۔
2017 کے نتائج
2017 میں ہوئے اسمبلی انتخابات کے نتائج کی بات کریں تو بی جے پی نے ان میں سے 7 سیٹوں پر کامیابی حاصل کی تھی، جبکہ ایک سیٹ ایس پی کے کھاتے میں گئی۔ اس مرحلے میں 8 ایسی سیٹیں ہیں، جن پر 2017 میں کم ووٹوں کے فرق سے ہار جیت کا فیصلہ ہوا تھا، جس میں 5 سیٹیں بی جے پی کے کھاتے میں گئی تھیں اور 3 سیٹیں ایس پی نے جیتی تھیں۔
شاہجہاں پور میں وزیر سریش کھنہ کی ساکھ داؤ پر!
بی جے پی اور آر ایل ڈی- سماج وادی پارٹی کا اتحاد بھی 2022 کے اسمبلی انتخابات میں آمنے سامنے ہے۔ پارلیمانی امور کے وزیر سریش کھنہ شاہجہاں پور کی صدر سیٹ سے انتخابی میدان میں ہیں۔ جن کا مقابلہ سماج وادی پارٹی کے تنویر خاں سے ہے۔ بہوجن سماج پارٹی نے سرویش چندرا کو اس سیٹ پر اپنا امیدوار بنایا ہے۔ 2017 کے الیکشن میں سریش کھنہ نے سماج وادی پارٹی کے امیدوار کو 16 ہزار سے زیادہ ووٹوں سے شکست دی تھی۔
کیا جیل میں بند اعظم خاں اپنی جیت کا سلسلہ جاری رکھ پائیں گے؟
رامپور صدسیٹ سے سماج وادی پارٹی کے قدر آوار لیڈراعظم خاں انتخابی میدان میں ہیں جو سیتا پور جیل میں بند ہیں اورجیل سے الیکشن لڑ رہے ہیں ، اس سیٹ پر بھارتیہ جنتا پارٹی نےاعظم خاں کےسامنےآکاش سکسینہ کواپنا امیدوار بنا یا ہے ، وہیں بہوجن سماج پارٹی نے شنکر لال سینی کو میدان میں اتارا ہے۔ مانا جا رہاہے کہ اس بار اعظم خاںکی راہ آسان نہیں ہے ۔
بی جے پی چھوڑ کر ایس پی میں شامل ہوئے دھرم سنگھ سینی کو کیا ملے گی جیت؟
بی جے پی حکومت میں وزیر رہ چکے دھرم سنگھ سینی پارٹی چھوڑنے کے بعد ایس پی کے ٹکٹ پر سہارنپور کی نکوڑ ودھان سبھا سے انتخابی میدان میں ہیں، یہاں ان کا مقابلہ بی جے پی کے مکیش چودھری سے ہے۔ مانا جا رہا ہے کہ اس سیٹ پر بھی سخت مقابلہ ہونے والا ہے۔
آنوالہ سے دھرم پال سنگھ میدان میں
اسی طرح آنوالہ اسمبلی سیٹ پر بی جے پی حکومت میں وزیر رہ چکے دھرم پال سنگھ میدان میں ہیں۔ دھرم پال سنگھ کا مقابلہ سماج وادی پارٹی کے رادھا کرشن شرما، بہوجن سماج پارٹی کے لکشمن پرساد اور کانگریس کے اوم ویر یادو سے ہے، جس کی وجہ سے یہ سیٹ بھی ہاٹ سیٹ میں تبدیل ہو گئی ہے اور دھرم پال سنگھ کا راستہ آسان نظر نہیں آ رہا ہے۔
امروہہ سیٹ پر سہ رخی ٹکر
امروہہ سیٹ کی بات کریں تو یہاں سماج وادی پارٹی نے ایک بار پھر سابق وزیر محبوب علی کو اپنا امیدوار بنایا ہے، جبکہ بھارتیہ جنتا پارٹی نے رام سنگھ سینی کو میدان میں اتارا ہے۔ نوید اس سیٹ پر بہوجن سماج پارٹی سے میدان میں ہیں۔ ماناجا رہا ہے کہ یہاں سہ رخی مقابلہ ہو گا،جس کی وجہ سے محبوب علی کی جیت کا راستہ آسان نظر نہیں آ رہا۔
کیا بلدیو سنگھ اولکھ دوبارہ جیت پائیں گے؟
یوگی حکومت کے واحد سکھ وزیر بلدیو سنگھ اولکھ بلاسپور اسمبلی سے انتخابی میدان میں ہیں۔ 2017 میں انہوں نے کانگریس کے امیدوار کو شکست دے کر کامیابی حاصل کی۔ اس سیٹ پر سماج وادی پارٹی کے امرجیت سنگھ، بہوجن سماج پارٹی کے رام اوتار کشیپ اور کانگریس کے سنجے کپور بلدیو سنگھ اولکھ کے مدمقابل ہیں۔ مانا جا رہا ہے کہ بلدیو سنگھ اولکھ کے لیے 2022 کا الیکشن آسان نہیں ہونے والا ہے۔
سنبھل میں گلابو دیوی میدان
یوگی حکومت میں وزیر گلابو دیوی ایک بار پھر سنبھل سے چندوسی سیٹ سے میدان میں ہیں، جن کا مقابلہ کانگریس کے متھلیش، سماج وادی پارٹی کے ویملیش اور بہوجن سماج پارٹی کے رنوجے سنگھ سے ہے۔










