نئی دہلی:(ایجنسی)
ا خبارت کی معروف مصنفہ اور بکر پرائز کی فاتح اروندھتی رائے نےسرکردہ صحافی کرن تھاپر کو دی وائر کے لیے دیے گئے انٹرویو میں مودی سرکار پر کڑی تنقید کی ہے۔ بی بی سی ہندی کی رپورٹ کے مطابق اروندھتی رائے نے کہا ہے کہ ہندو قوم پرستی کی سوچ تفرقہ انگیز ہے اور ملک کے عوام اسے کامیاب نہیں ہونے دیں گے۔ سینئر صحافی کرن تھاپر کو دیے گئے انٹرویو میں اروندھتی رائے نے بی جے پی کو فاشسٹ قرار دیا اور یہ بھی کہا کہ انہیں امید ہے کہ ملک ایک دن ان کی مخالفت کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ مجھے ہندوستانی عوام پر بھروسہ ہے اور مجھے یقین ہے کہ ملک اس تاریک خلیج سے نکل آئے گا۔
مودی کے آنے کے بعد ملک میں تفاوت مزید بڑھ گیا ہے۔ ملک کے 100 لوگوں کے پاس ہندوستان کی جی ڈی پی کا 25 فیصد ہے۔ اتر پردیش کے ایک کسان نے بہت درست تبصرہ کیا تھا کہ ملک کو چار لوگ چلاتے ہیں، دو بیچتے ہیں اور دو خریدتے ہیں۔ چاروں کا تعلق گجرات سے ہے۔ اروندھتی نے کہا، ’امبانی اور اڈانی کی بندرگاہوں، کانوں، میڈیا، انٹرنیٹ، پیٹرو کیمیکل سمیت کئی چیزوں پر اجارہ داری ہے۔‘










