لکھنؤ: (ایجنسی)
انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ نے پیر کو طویل عرصے سے جیل میں بند مافیا اور سابق ایم پی عتیق احمد کی 8.14 کروڑ روپے کی جائیداد ضبط کر لی۔ عتیق احمد کے خلاف یہ کارروائی منی لانڈرنگ کیس کی تحقیقات کے سلسلے میں کی گئی ہے۔ ای ڈی نے کہا کہ یہ جائیداد عتیق احمد اور ان کی بیوی شائستہ پروین کے نام ہے۔
ای ڈی کا دعویٰ ہے کہ عتیق احمد کی جائیدادوں کو عارضی طور پر قرق کیا گیا ہے، جن میں زمین اور بینک کھاتوں میں جمع رقم شامل ہے۔ ان کی کل لاگت 8.14 کروڑ روپے بتائی جا رہی ہے۔ عتیق احمد کے خلاف یہ کارروائی جانچ ایجنسی کے لکھنؤ زونل آفس نے کی ہے ۔
معلومات کے مطابق، زون کے جوائنٹ ڈائریکٹر راجیشور سنگھ نے عتیق احمد کے خلاف کارروائی کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ جائیدادوں کو پی ایم ایل اے ایکٹ کے تحت ضبط کیا گیا ہے۔ ای ڈی نے الہ آباد کی پھول پور تحصیل میں زمین کو قرق کیا ہے جو عتیق احمد کی بیوی شائستہ پروین کے نام پر رجسٹرڈ ہے۔
جانچ ایجنسی نے بتایا کہ عتیق احمد نے اسے 4.5 کروڑ روپے میں خریدا تھا جو کہ 6.86 کروڑ روپے کی سرکاری قیمت سے بہت کم ہے۔ ای ڈی کی طرف سے ضبط کیے گئے اثاثوں میں عتیق احمد کے 10 اکاؤنٹس اور ان کی بیوی کے ایک بینک اکاؤنٹ میں جمع 1.25 کروڑ روپے بھی شامل ہیں۔
واضح رہے کہ عتیق احمد پر بھی اتر پردیش حکومت نے گینگسٹر ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کیا ہوا ہے۔ عتیق احمد گجرات کی سابرمتی جیل میں عدالتی حراست میں ہیں۔ عتیق احمد سے گزشتہ چند مہینوں میں تفتیشی ایجنسی نے پوچھ گچھ کی ہے۔









