نئی دہلی(ایجنسی)
آل انڈیا مسلم مجلس مشاورت کے صدر نوید حامد نےکہاکہ مشاورت معروف سیاستداں اسد الدین اویسی ،ایم پی پر گزشتہ رات یو پی انتخابات میں اپنی پارٹی کے امیدواروں کی انتخابی مہم کے خاتمے کے بعد واپسی میں پلکھوا -یوپی کے پاس کیے گئے جان لیوا حملے کی سخت مذمت کرتی ہے اور اس کو ایک بزدلانہ حرکت کے ساتھ ساتھ ریاست اتر پردیش کے انتخابات کو متاثر کرنے کے عمل کا ایک حصہ مانا ہے۔ مشاورت اس بات پر تشویش کا اظہار کرتی ہے کہ یہ حملہ ان مجرموں نے کیا جن کی سوشل میڈیا پر وائرل ہو رہی تصاویر اس بات کی گواہی دے رہی ہیں کہ ان مجرمان کا ریاست یوپی کے چیف منسٹر یوگی آدتیہ ناتھ اوردیگراعلیٰ ترین حکومت کے قائدین سے نزدیکی روابط ہیں۔
مشاورت کا یہ سوچا سمجھا موقف رہا ہے کہ پچھلے پانچ برسوں میں ریاست اتر پر دیش ملک کی وہ ریاست ہے جہاں سب سے زیادہ لاقانونیت کا راج ہے اور جہاں مجرمین حکمراں جماعت کے قائدین سے نزدیکیوں اور سرپرستی کی وجہ سے پھلے پھولے ہیں ،اور ریاست میں صرف بے گناہوں کو ہی نہیں بلکہ سیاسی اختلاف رکھنے والے افراد کوبے رحمی سے کچلا گیا ہے۔ مشاورت کا یہ ماننا ہے کہ اسد الدین اویسی ، ایم پی پر ہوا جان لیوا حملہ ریاست اتر پر دیش کے انتخابات کو فرقہ وارانہ رنگ دینے کے ایجنڈے کی ایک کڑی ہے۔ اور یہ حملہ اس مقصد سے کیا گیا لگتا ہے کہ اس حملہ کے بعد اسد الدین اویسی کی پارٹی کے ارکان ایک جذباتی رد عمل کا اظہار کریں جس کے نتیجے میں ہندوتو وادی بلوائی فرقہ وارانہ ایجنڈے کے تحت تشدد کا ماحول بنائیں اورجس سے ریاست میں ہونے والے انتخابات کے نتائج کو متاثر کیا جا سکے ، کیونکہ حکمراں جماعت کی نا کارکردگی کے خلاف ریاست کے ہر طبقہ میں ناراضگی کا ایک ماحول دکھائی دے رہا ہے۔
آل انڈیا مسلم مجلس مشاورت، جناب اسد الدین اویسی کے اوپر ہوئے حملہ کی آزادانہ تحقیق کا مطالبہ کرتی ہے اور اس بات کا بھی مطالبہ کرتی ہے کہ اسد الدین اویسی پر حملہ کرنے والے مجرمان کے خلاف یو اے پی اے کے تحت مقدمہ دائر کیا جائے۔مزید مشاورت اس بات پر اپنی حیرانگی کا اظہار کرتی ہے کہ ابھی تک الیکشن کمیشن آف انڈیا نے اس حساس مسئلے پر خاموشی اختیار کر رکھی ہے اور یہ مطالبہ کرتی ہے کہ الیکشن کمیشن اس بات پر فوری توجہ دے اور ریاست کے پولیس ارکان کے خلاف کارروائی کی سفارش کرے کیونکہ ریاست کی خفیہ ایجنسیاں نہ صرف اسد الدین اویسی پر حملے کی خبر دینے میں ناکام رہیں ہیں بلکہ ان کو سیکورٹی فراہم کرنے میں بھی غفلت برتی ہے۔










