لکھنؤ :(ایجنسی)
اتر پردیش کے پیلی بھیت سے لوک سبھا رکن پارلیمنٹ ورون گاندھی اپنی ہی پارٹی کی سرکار کو اس معاملے پر لگاتار گھیرتے نظر آرہے ہیں ۔ انڈیا ٹوڈے کانکلیو میں ایک سوال کے جواب میں بی جے پی کے سربراہ جے پی نڈا نے کہا تھاکہ انہوں نے ورون گاندھی کوبلا کر بات کی تھی۔ نڈا نےیہ بھی کہا تھا کہ اب اس معاملے میں سب کچھ ٹھیک ہوجائےگا۔ لیکن اتوار کو ورون گاندھی نے ایک اور ٹویٹ کیا، جس سے پتہ چلتا ہے کہ سب کچھ ٹھیک نہیں ہوا ۔
اپنے ٹویٹ میں ورون گاندھی نے لکھا کہ لکھیم پور کھیری حادثہ کو ہندو بنام سکھ کی لڑائی میں تبدیل کرنے کی کوشش ہو رہی ہے ۔ یہ نہ صرف غیراخلاقی ہے بلکہ جھوٹ بھی ہے۔ ایسا کرنا خطرناک ہے اور ان زخموں کو کھریدنے جیسا ہے،جنہیں ٹھیک ہونے میں نسلیں لگیں۔ ہمیں گھٹیا سیاست کو قومی اتحاد کےاوپر نہیں رکھنا چاہئے ۔
ظاہر ہے کہ مرکز اور ریاست دونوں میں بی جے پی کی حکومت ہے اور ورون گاندھی کی یہ شکایت سسٹم سے ہی ہے۔ ورون گاندھی نے اپنی حکومت کو کسانوں کی تحریک سے حساس طریقے سے نمٹنے کا مشورہ دے چکے ہیں۔
وہ گنے کی امدادی قیمت پر بھی ریاستی حکومت کو نشانہ سادھتے رہے ہیں اور تین اکتوبر کو لکھیم پور کھیری میں چار کسانوں سمیت آٹھ لوگوں کی موت کو لے کر وہ لگاتار ٹوئٹر پر سوال اٹھا رہے ہیں۔ انہوں نے واقعہ کاایک ویڈیو ٹویٹ کرتے ہوئے فوراً کارروائی کی مانگ کی تھی ۔
حالانکہ ورون گاندھی ایک طویل عرصے سے پارٹی میں حاشیہ پرہی ہیں۔ ان کی میں مینکا گاندھی مودی حکومت کے پہلے دور میں وزیر تھیں لیکن دوسری مدت میں انہیں کابینہ میں جگہ نہیں ملی۔
7 اکتوبر جمعرات کو بی جے پی کی قومی ایگزیکٹو کے ممبروں کی فہرست جاری کی گئی ، اس میں نہ تو ورون گاندھی کا نام تھا اور نہ ہی ان کی والدہ مینکا گاندھی کا نام۔ بی جے پی کے اس فیصلے کو ورون گاندھی سے پارٹی کی ناراضگی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔










