ممبئی :(ایجنسی)
عظیم گلوکارہ لتا منگیشکر آج اتوار کے روز انتقال کر گئیں۔ ان کی عمر 92 سال تھی اور وہ کافی دنوں سے اسپتال میں زیر علاج تھیں۔ لتا منگیشکر کورونا کے ساتھ نمونیا سے بھی متاثر تھیں اور 9 جنوری کو ممبئی کے بریچ کینڈی اسپتال میں داخل کرایا گیا تھا جہاں وہ اب تک زیر علاج تھیں۔
آواز کی ملکہ کی آخری رسوم آج شام شیواجی پارک میں کی گئیں۔ ان کے جسد خاکی کو ان کی رہائش گاہ پربھو کنج سے شیواجی پارک لایا گیا اور ہمیشہ ہمیشہ کیلئے انہیں آخری وداعی دی گئی۔ اس دوران ان کے آخری ددیدار کے لیے ہزاروں کی بھیڑ جمع ہوگئی۔ لتامنگیشکر کی شہرت سرحدوں سے بھی ماورا تھی۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے شائقین دنیا بھر کے تمام ممالک میں پائے جاتے ہیں۔ ہندوستان کے ہر چپے چپے میں ان کو سنا جاتا ہے۔ اسی طرح ہندوستان کے پڑوسی ملک پاکساتن میں بھی ان کے شائقین کی بڑی تعداد ایسی ہے، جنھوں نے لتا کے انتقال پر اپنے گہرے رنج اور دیکھ درد کا اظہار کیا ہے۔ تقریبا سات بج کر ۱۵ منٹ پر بھاری من سے لتا منگیشکر کو ان کئ بھائی نے مکھ اگنی دی۔
لتا منگیشکر کے انتقال پر ہندوستان بھر میں سوگ کا ماحول محسوس کیا جارہا ہے۔ لتا منگیشکر کی موت ملک کے لیے بہت بڑا نقصان ہے۔ ان کی روح کو سکون ملے! لتا منگیشکر کی جسد خاکی آخری جھلک کے لیے ممبئی کے مشہور شیواجی پارک میں رکھا گیا تھا ۔ پی ایم مودی نے شیواجی پارک ممبئی پنچ کر لتا دی کے کنبے کا غم بانٹا اور انہیں خراج عقیدت پیش کیا۔










