پٹنہ
بہار میں کورونا وائرس کے انفیکشن کی جانچ کے لئے لیے گئےآر ٹی -پی سی آر ٹیسٹ میں بھی گھوٹالہ منظر عام پر آیا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ مہاراشٹر میں پہلے ہی بلیک لسٹ کی جاچکی ایک کمپنی کو بہار سرکار نے آر ٹی- پی سی آر ٹیسٹ کرنے کے لیے موبائل وین چلانے کا ٹھیکہ دیا۔ چونکانے والی بات یہ ہے کہ اس کمپنی کو ان وینس کو چلانے کے لیے 29.20کروڑ روپے کا ٹھیکہ دیا گیا، جبکہ یہ انتظام صرف 90 دنوں کے لیے کیاگیا تھا۔
ماہرین کے مطابق ایسی وین میں آر ٹی پی سی آر ٹیسٹ کے سیٹ اپ کو تیار کرنے میں فی وین زیادہ سے زیادہ 2 کروڑ روپے کا خرچ آ سکتا ہے ۔ یعنی 10 کروڑ روپے میں سرکار خود ہی پانچ وین تیار کرا سکتی تھی۔ اس کے علاوہ اگر سرکار خود ہی آر ٹی -پی سی آر ٹیسٹ وین میں کرانے کاانتظام کرتی تو وہ تین مہینے کے اندر ہی ان پانچوں وین میں 4.5لاکھ ٹیسٹ کرا سکتی تھی، اس کے لیے اس کا کل خرچ 9 سے 10 کروڑ روپے آتا۔
ان سب سے بڑھ کر اگر وین میں لگنے والے لوگوں کے خرچ ،ایندھن کا خرچ اور کیمیکل وغیرہ کے خرچ کو جوڑ دیا جائے تو تین مہینے میں زیادہ سے زیادہ پانچ وین پر ایک کروڑ روپے کا اضافی لاگت آتی۔ یعنی 20 کروڑ روپے میں وین کے ذریعہ آر ٹی – پی سی آر ٹیسٹ کا پورا سیٹ اپ تیارہوجا تا۔ ساتھ ہی 4.5لاکھ ٹیسٹ بھی پورے ہوجاتے، مگر سرکار نے اسی سیٹ اپ کے لیے ایک بلیک لسٹڈ کمپنی سے 29 کروڑ روپے میں ڈیل طے کرلی۔
دینک بھاسکر اخبار کی رپورٹ کے مطابق بلیک لسٹڈ کمپنی کا نام پی او سی ٹی ہے۔ یہ اتر پردیش کے لکھنؤ سے چلتی ہے۔ اس کمپنی کو مہاراشٹرحکومت نے ستمبر 2020 میں آر ٹی پی سی آر ٹیسٹ کٹس کی فراہمی کے سلسلے میں تین سال کے لئے بلیک لسٹ کیا تھا، لیکن بہار حکومت نے اس کمپنی کو پٹنہ ، مظفر پور ، بھاگل پور ، گیا اور بہارشریف کے اسپتالوں سے منسلک کیا۔ اس وین میں ایک ہزار ٹیسٹ کرنے کا بھی ہدف دیا گیا ہے۔
بی ایم ایس آئی سی ایل نے ہر وین کو کم سے کم 90 فیصد یعنی 900 ٹیسٹ فی دن کرنے کے لیے کہا ہے ، لیکن ہر دن وین سے اوسطاً 365 جانچیں ہوئی ہیں۔ چونکانے والی بات یہ ہے کہ وین کے ذریعہ ہو رہی جانچوں کی رپورٹ بھی 24 گھنٹے کے اندر نہیں مل پاتی۔ ابھی بھی کئی ہزار رپورٹس پیڈنگ ہیں۔ جبکہ وین پر ایک دن کا 32.45لاکھ کا خرچ آر ہاہے ۔
اس درمیان اس معاملےکے سامنے آنے کے بعد بہار کے وزیر صحت منگل پانڈے نے کہاہے کہ وین کی ٹیسٹ صلاحیت ایک ہزار ہے ، ہم کمپنی کو انہیں ٹیسٹ کی بنیاد پر پیسہ دے رہے ہیں ۔ اگر کسی دن کم جانچ ہوئی ہیں تو انہیں اسی بنیاد پر پیسے دئے جائیں گے۔ انہوں نے کمپنی کے بلیک لسٹڈ ہونے کے معاملے کی جانچ کی بات بھی کہی ہے ۔











