بہار میں ووٹر لسٹ کے ایس آئی آر (انتہائی نظرثانی مہم) پر سپریم کورٹ نے الیکشن کمیشن کو ہدایت دی کہ اگر بڑے پیمانے پر اخراج ہوتا ہے، یعنی بڑے پیمانے پر ناموں کو حذف کیا جاتا ہے، تو عدالت مداخلت کرے گی۔ سپریم کورٹ نے کمیشن کو دو ٹوک الفاظ میں کہا کہ آپ آئینی ادارہ ہیں، آئین کے مطابق کام کریں۔ عدالت نے درخواست گزاروں کو یقین دلایا ہے کہ اگر بڑے پیمانے پر ووٹر لسٹ سے لوگوں کے نام حذف کیے جاتے ہیں تو سپریم کورٹ مداخلت کرے گی۔ سپریم کورٹ نے اس معاملے سے متعلق درخواستوں کی سماعت 12-13 اگست کو سنوائی کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
سپریم کورٹ نے منگل کو سماعت کے دوران کہا کہ الیکشن کمیشن نے عدالت کو یقین دہانی کرائی ہے , اگر وہ اس سے انحراف کرتے ہیں تو ہم ضرور مداخلت کریں گے۔ سپریم کورٹ نے درخواست گزاروں کو یہ یقین دہانی بھی کرائی کہ اگر الیکشن کمیشن اس سے انحراف کرتا ہے تو عدالت مداخلت کرے گی۔
درخواست گزار مسودے سے باہر رہ گئے ووٹرز کی فہرست تیار کریں۔:سپریم کورٹ نے درخواست گزاروں سے کہا کہ وہ 1 اگست کو ڈرافٹ لسٹ کے شائع ہونے کے بعد اس سے باہر رہ جانے والے لوگوں کو نشان زد کریں۔ سپریم کورٹ نے کہا کہ فہرست میں نام شامل کرنے اور درست کرنے کے لیے 30 دن کا عمل ہے۔ اگر بڑے پیمانے پر ناموں کو خارج کیا گیا تو ہم مداخلت کریں گے۔
سماعت کے دوران جسٹس جویمالیا باگچی نے کہا، ‘الیکشن کمیشن ڈرافٹ لسٹ شائع کرے گا۔ آپ کو خدشہ ہے کہ تقریباً 65 لاکھ ووٹر فہرست میں شامل نہیں ہوں گے۔ وہ (الیکشن کمیشن) 2025 کے اندراج کے حوالے سے اصلاح طلب کر رہے ہیں۔ ہم عدالتی اتھارٹی کے طور پر معاملے کا جائزہ لے رہے ہیں۔ اگر بڑے پیمانے پر ناموں کو خارج کیا گیا تو ہم فوری مداخلت کریں گے۔ عدالت نے کہا کہ زندہ لوگوں کو شامل کیا جائے۔
پرشانت بھوشن نے کہا- 65 لاکھ لوگ ووٹر لسٹ باہر ہ۔
اے ڈی آر کے وکیل پرشانت بھوشن نے کہا کہ جن 65 لاکھ لوگوں نے فارم جمع نہیں کیا تھا، انہیں باہر کر دیا گیا ہے۔ سپریم کورٹ نے درخواست گزاروں کے ان خدشات کو دور کرنے کی کوشش کی کہ الیکشن کمیشن کی طرف سے تیار کی جا رہی ووٹر لسٹ سے بڑی تعداد میں لوگوں کو خارج کیا جا رہا ہے۔ سپریم کورٹ نے عرضی گزاروں سے کہا کہ وہ اس معاملے میں این جی او کا کردار ادا کریں۔ جس میں کہا گیا کہ جہاں کچھ مختلف ہو عدالت کو آگاہ کریں عدالت مداخلت کرے گی۔











