چنڈی گڑھ :
شری راجپوت کرنی سینا کے سربراہ سورج پال آمو کو ہریانہ میں بی جے پی کا ترجمان بنایا گیا ہے۔ آمو حال ہی میں مسلمانوں کے خلاف کھل کر نفرت انگیز تقریر کرنے کی وجہ سے خبروں میں تھے۔
اس سے قبل 2017 میں سورج پال آمو اس وقت سرخیوں میں چھائے تھے ، جب انہوں نے فلم ’پدماوت‘ پر ہوئے تنازع کے دوران اداکارہ دیپکا پڈوکون کا سر قلم کرنے کا انعام رکھا تھا۔
آمو کے ترجمان بنانے کااعلان ہریانہ بی جے پی کے چیف اوم پرکاش دھنکر نے ٹوئٹر پر کیا۔
اپنے فیس بک پیج پر پوسٹ کئے ایک ویڈیو میں آمو کو ہریانہ میں لوگوں کی بھاری بھیڑ کے سامنے تقریر کرتے ہوئے دیکھاجا سکتا ہے ۔ اس میں و ہ کچھ ہفتوں پہلے ہوئی ایک مسلم شخص کی لنچنگ کی حمایت کررہاہے ۔ ویڈیو میں آمو آصف خاں قتل کیس کے بارے میں بات کررہے ہیں۔
خان میوات کے خلیل پور کھیڑا گاؤں کا رہنے والا تھا، 16 مئی کی رات کو گوجر سماج کے کچھ لوگوں نے مبینہ طور پر آصف کی اس وقت لنچنگ کردی، جب وہ دوا خرید کر لوٹ رہا تھا۔
ویڈیو کے کیپشن میں آمو نے لکھا، ’’انڈری (نوح) میں ہندو مہاپنچایت میں ہزاروں لوگ آئےتھے۔ جرم کرنے والے سے زیادہ بڑا مجرم اسے برداشت کرنے والا ہوتاہے ، اگر کوئی ہندو دھرم کی بے عزتی کرے گا تو کیا خاموش رہیں گے؟ صرف سچے بھارتی کمنٹ کریں۔‘‘
سورج پال آمو کون ہے؟
آموایک لاء گریجویٹ ہے، جو 1985 سے 1988 تک آر ایس ایس کے طلبا ونگ اے بی وی پی کے ممبر رہ چکے ہیں۔ آمو کئی سالوں تک بی جے پی میں کئی عہدوں پر فائز رہ چکے ہیں۔
وہ بی جے پی کے یوتھ ونگ بھارتیہ جنتا یوامورچہ ( بی جے وائی ایم ) کے ریاستی نائب صدر اور نیشنل ایگزیکٹیو ممبر رہ چکے ہیں۔
سورج پال آمو کو 2013 میں ہریانہ بی جے پی کا ترجمان بنایا گیا تھا اور پھر 2014-2019 میں آمو ریاست میں پارٹی کے چیف میڈیا کوآرڈی نیٹر تھے۔ انہوں نے ’پدماوت‘ کیس میں ضمانت ملنے کے بعد 2018 میں استعفیٰ دے دیا تھا ، لیکن اسے منطور نہیں کیا گیا اور وہ 2019 تک ترجمان رہے۔
2019 میں وہ شری راجپوت کرنی سینا کے صدر بنے۔ یہ راجستھان میں واقع ایک گروپ ہے ، جو راجپوت برادری سے متعلق امور اٹھاتا ہے۔ پچھلے کئی سالوں سے اس گروہ پر تشدد کو بھڑکانے کا الزام لگتارہا ہے۔











