بنگلور :(ایجنسی)
بنگلور سے بی جے پی ایم پی تیجسوی سوریہ اپنے ایک بیان کی وجہ سے تنازعات میں گھر گئے ہیں۔ تیجسوی سوریہ نے مسلمانوں اور عیسائیوں کو ہندو بنانے پر زور دیا ہے۔ تیجسوی سوریہ کی 25 دسمبر کو اڈوپی کے سری کرشن مٹھ میں تقریر کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہو رہی ہے۔
تیجسوی سوریہ نے کہا کہ یا تو ڈرا دھمکا کر یا لالچ دے کر ہندو کو اس کے اصل مذہب سے نکال دیا گیا ہے۔ اس تضاد کو دور کرنے کا ایک ہی ممکنہ حل ہے۔ بی جے پی ایم پی نے کہا، ’جو لوگ تاریخ میں مختلف سماجی، سیاسی، معاشی وجوہات کی وجہ سے ہندو مذہب سے باہر چلے گئے ہیں، انہیں مکمل طور پر اپنے مذہب ہندو مذہب میں واپس لایا جانا چاہیے۔‘ اس تقریر کی ویڈیو ٹویٹ کرتے ہوئے تیجسوی نے لکھا،’’ہندوستان صدیوں تک غیر ملکی حملہ آوروں کی حکمرانی کے بعد ’وشوگرو‘ کے طور پر دوبارہ ابھر رہا ہے۔‘‘
بی جے پی کے رکن پارلیمنٹ نے کہا کہ دھارمک مٹھوں کو دوسرے مذاہب میں ہجرت کرنے والے ہندوؤں کی واپسی کے لیے پہل کرنی چاہیے اور انھیں ہندو مذہب میں واپس لانے کے لیے ’سالانہ ہدف‘ مقرر کرنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ ایسی کوششیں جنگی بنیادوں پر کی جانی چاہئیں۔ اس دوران تیجسوی سوریہ نے مسلم اور عیسائی مذہب کے مختلف پہلوؤں پر بھی تنقید کی۔
تیجسوی سوریہ نے کہا، ’ہم نے اس ملک میں رام مندر بنایا ہے۔ جموں و کشمیر سے آرٹیکل 370 ہٹا دیا گیا ہے۔ ہمیں پاکستان کے مسلمانوں کو ہندو بنانا چاہیے۔ ہمیں ’گھر واپسی‘ کو ترجیح دینی ہوگی۔ اکھنڈ بھارت کے تصور میں پاکستان شامل ہے۔ اس سلسلے میں مٹھوں اور مندروں کو آگے بڑھنا چاہیے۔‘
بی جے پی کے رکن پارلیمنٹ نے پوچھا، ’کیا ٹیپو جینتی منانے پر اصرار کرنے والوں نے کلام جینتی یا ششونالا شریفہ جینتی کے لئے زور دیا ہے؟ یہی فرق ہے۔‘ بی جے پی ایم پی تیجسوی سوریہ کا یہ تبصرہ کرناٹک اسمبلی کےذریعہ بڑھتے ہوئے احتجاج کے باوجود متنازع تبدیلی مذہب مخالف بل کی منظوری کے دو دن بعد آیا ہے۔










