نئی دہلی:
ایودھیا میں ایک طرف رام مندر تعمیر کا کام زور و شور سے چل رہا ہے، اور دوسری طرف مندر کے لیے زمین خریداری میں بڑے پیمانے پر گھوٹالہ کی بات سامنے آنے سے ایک ہنگامہ برپا ہو گیا ہے۔ کانگریس اس تعلق سے بی جے پی پر حملہ آور ہے اور بھگوان رام کے ساتھ دھوکہ کرنے کا الزام عائد کر رہی ہے۔ کانگریس ترجمان رندیپ سنگھ سرجے والا نے ایک پریس بیان جاری کرکے صاف لفظوں میں کہہ دیا ہے کہ جو لوگ بھگوان کو دھوکہ دے رہے ہیں، وہ انسان کو کیسے چھوڑ سکتے ہیں۔ کانگریس نے بی جے پی پر عقائد کا سودا کرنے اور گناہ عظیم کرنے کا الزام عائد کیا ہے۔
رندیپ سرجے والا نے بیان میں کہا ہے کہ بھگوان شری رام عقیدت کی علامت ہیں، لیکن بھگوان رام کے روحانی شہر ایودھیا میں رام مندر تعمیر کے لیے کروڑوں لوگوں سے جمع چندہ کا غلط استعمال اور دھوکہ دہی بہت بڑا گناہ اور ’اَدھرم‘ ہے جس میں بی جے پی لیڈران شامل ہیں۔ بیان میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ بھگوان رام نے والد کے وعدہ پر عمل کرتے ہوئے اپنی خوشی سے 14 سال جنگل میں گزار دیئے، لیکن بھگوان رام کے اس عمل سے بی جے پی والوں نے کچھ بھی سبق حاصل نہیں کیا۔ الٹا شری رام مندر تعمیر کے لیے جمع ہوئے چندہ کا غلط استعمال کیا اور مندر کی زمین خریدنے میں کروڑوں کا گھوٹالہ اب پوری طرح ظاہر ہے۔
کانگریس ترجمان رندیپ سرجے والا نے آگے کہا ہے کہ ملک کے کروڑوں لوگوں کی عقیدت کی علامت بھگوان شری رام کے مندر تعمیر کے لیے اس ٹرسٹ کی تشکیل سپریم کورٹ کے حکم سے کی گئی ہے۔ جب یہ گھوٹالہ سامنے ہے تو ہندوستانیوں کی جانب سے ہمارا مطالبہ ہے کہ وزیر اعظم مذکورہ بالا سوالوں کا ملک کو جواب دیں اور ملک کے چیف جسٹس و سپریم کورٹ پورے معاملے کا نوٹس لے کر عدالتی نگرانی میں اس پورے معاملے کی جانچ کروائیں۔
دوسری جانب دہلی کے نائب وزیر اعلیٰ منیش سسودیا اور راجیہ سبھا کے رکن پارلیمنٹ سنجے سنگھ نے کہا کہ بی جے پی قائدین نے رام مندر کیلئے شری رام جنم بھومی ٹرسٹ کے ذریعہ 12080 مربع میٹر اراضی میں کروڑوں روپے مالیت کا گھوٹالہ کیا ہے۔سسودیا نے یہاں پریس کانفرنس میں بتایا کہ شری رام جنم بھومی ٹرسٹ نے 18 مارچ 2021 کو12080 مربع میٹر زمین 18.5 روپے میں خریدی۔ ٹرسٹ نے یہ زمین روی موہن تیواری اور سلطان انصاری سے خریدی جس میں ٹرسٹ کے رکن انل مشرا اوراجودھیا کے میئر رشی کیش اپادھیائے گواہ بنے۔ یہ بڑی خوشی کی بات ہے کہ مندر کے لئے مزید جگہ خریدی گئی تاکہ مندر مزید عالیشان بن سکے۔ اس کے لئے سب نے اپنا چندہ دیا چاہے وہ مزدور ہوں ، کسان ہوں یا تاجر۔ شری رام کے مندر کی تعمیر کے لئے سب نے اپنی بچت سے چندہ دیا ہے ، لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ اس زمین کی خریداری اور شری رام کے عقیدت مندوں اور ان کے اعتماد کو دھوکہ دیا گیا ہے۔
مسٹر سسودیا نے بتایاکہ شروع میں زمین سے متعلق دستاویزات دیکھنے کے بعد ایسا لگتا تھا کہ یہ جعلی ہوگا ، لیکن شری رام جنم بھومی ٹرسٹ کے لوگوں نے بے شرمی سے ایک بیان جاری کیا اور ایک متنازعہ دلیل دی کہ زمین مہنگی ہوگئی ہے۔ کیا کسی زمین کی قیمت 5 منٹ میں 2 کروڑ سے18.5 کروڑ روپے ہوسکتی ہے؟
رام مندر کی تعمیر کے لئے زمین خریدنے میں شری رام جنم بھومی ٹرسٹ کے خلاف گھوٹالہ کے الزام پر ٹرسٹ کے جنرل سکریٹری چمپت رائے نے میڈیا میں پریس نوٹ جاری کرکے اپنا مؤقف رکھا۔ انہوں نے کہا کہ جو سیاسی لوگ اس معاملے میں انتخابی مہم چلا رہے ہیں وہ گمراہ کن اور سیاسی طور پر متحرک ہیں۔











