لکھنؤ :(ایجنسی)
جناح کا نام یوپی الیکشن کا پیچھا چھوڑنے کو تیار نہیں ہے۔ انتخابی مہم کا یہ دور جناح کے نام ہو گیا ہے۔ امیت شاہ، یوگی آدتیہ ناتھ اور اسد الدین اویسی نے اس بہانے اکھلیش یادو کے خلاف محاذ کھول دیا ہے۔ اکھلیش بھی اس معاملے میں پیچھے ہٹنے کو تیار نہیں ہیں۔ تو بی جے پی نے اسی بہانے انہیں مسلم پریمی بتانے کی مہم چھیڑ دی ہے ۔ جس کی قیادت خود وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ کررہے ہیں۔ آج لکھنؤ میں یوگی نے اکھلیش کو ووٹ بینک کی نیچے سیاست کرنے والا کہہ دیا۔ برہمن سمیلن میں یوگی نے کہا کہ سردار پٹیل اورجناح کاموازنہ کرنا ووٹ بینک کی پولرائزکی سیاست ہے ۔ انہوں نے کہاکہ جناح ہمیشہ ولن ہی رہیں گے اوران کا ساتھ دینے والے بھی ۔ یوگی نے کہاکہ سردار پٹیل قومی ہیرو ہیں اور ہمیشہ رہیں گے، لیکن جو لوگ جناح کی حمایت کر رہے ہیں وہ طالبان کی حمایت کر رہے ہیں۔
یوپی کے انتخابی میدان میں جناح کی انٹری اکھلیش یادو کی وجہ سے ہوئی۔ یہ بات اس سال 31 اکتوبر کی ہے۔ اس دن سردار پٹیل کا یوم پیدائش تھا۔ اکھلیش یادو نے اس موقع پر ہردوئی میں پٹیل کا موازنہ محمد علی جناح سے کیا۔ یہیں سے ایک نیا تنازع شروع ہوا۔ جو اب تک جاری ہے۔ اس معاملے پر بی جے پی نے آسمان سر پر اٹھا لیا ہے۔ کہا گیا کہ اکھلیش یادو جناح کی تعریف کیسے کر سکتے ہیں جس کی وجہ سے ملک تقسیم ہوا۔ بی جے پی نے الزام لگایا کہ جناح کی وجہ سے آزادی کے وقت ہزاروں ہندو مرے تھے۔ خواتین کی عصمت دری کی گئی۔ کروڑوں ہندو بے گھر ہو گئے۔ لیکن اکھلیش یادو اپنے بیان سے پیچھے نہیں ہٹے۔ انہوں نے بی جے پی والوں کو تاریخ پڑھنے کا مشورہ بھی دیا۔
ایسا لگتا ہے کہ بی جے پی نے جناح کے کیس کو انتخابات تک آگ میں رکھنے کی حکمت عملی بنائی ہے۔ یہ ایک ایسا مسئلہ ہے جو فرقہ وارانہ پولرائزیشن کا باعث بن سکتا ہے۔ اس بنیاد پر ووٹوں کی تقسیم ہو سکتی ہے۔ اگر ہندو متحد ہوجائیں تو الیکشن میں اس کا فائدہ بی جے پی کو مل سکتا ہے۔ اس ماسٹر پلان کے تحت بی جے پی لیڈر جناح کا نام لے کر اکھلیش پر حملہ کرتے رہیں گے۔ اسی لیے پارٹی کے چانکیہ کہلانے والے امت شاہ نے بھی اپنے لوک سبھا حلقہ اعظم گڑھ میں اس معاملے کو لے کر اکھلیش کو تنقید کا نشانہ بنایا۔









