نئی دہلی:
باڈی بلڈنگ ماڈلنگ اور ٹک ٹاک ویڈیو بنانے کاشوقین ہینڈسم نوجوان شاہ رخ پٹھان کا دہلی فساد کے دوران پستول لہراتا فوٹو اس کی شناخت بن گیا۔ سیاسی ضرورت اور میڈیا کی ایک زخمی ذہنیت نے اس کو دہلی فساد کا پوسٹر بوائے بنادیا۔ سنگین دفعات کے تحت تہاڑ جیل میں بند ہے ۔ مختلف مقدمات کا سامنا کررہاہے، اسے ضمانت نہیں ملی ہے ۔
یہاں یہ بات یاد رکھنے کی ہے کہ سی اے اے مخالف دھرنے پر گولیاں چلانے اور پستول لے کر آنے والے نوجوان دولڑکوں کو جلد ضمانت مل گئی تھی ۔ ان میں سے ایک ملزم کو بی جے پی میں بھی شامل کرلیا تھا،بعد ازاں شور مچنے پر اس کی ممبری مشترد کردی تھی ۔ شاہ رخ ملز م ہے ، جرم ثابت نہیں ہوا ہے۔ مشکل ہے کہ وہ باہر آپائے ، اس سے قبل سیکڑوں جوانیاں بے گناہی کی سزا کئی دہائیاں کاٹ چکیں اور پھر باعزت بری ہوئے کہ زندگیاں اجڑ کر رہ گئیں ۔کیا پتہ شاہ رخ بھی اسی تاریخ کاایک صفحہ بن جائے۔ ملزم سے ہمدردی کی بات نہیں ۔ عدالتی سسٹم کی سستی،لاپروائی اور فیصلوں میں نظر آنے والی بے رخی کا سوال ہے۔ کتنے خالد ، شاہ رخ اور عشرت جہاں فرض کفایہ میں ہماری بے حسی وخود غرضی کے خاموش ترجمان بن کر زخمی نگاہوں میں سوال چھپائے بیٹھے ہیں ۔











