برطانوی اخبار ” ٹیلی گراف” نے بتایا ہے کہ وزیر اعظم کیئر اسٹامر اس ہفتے ایک منصوبے کا اعلان کرنے والے ہیں جس کے تحت فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کی تیاری کی جائے گی۔ اس اقدام کا مقصد ان کے زیر قیادت لیبر پارٹی کے اندر موجود دباؤ کو کم کرنا ہے۔
اخبار نے پیر کے روز بتایا کہ اسٹامر فلسطین کو تسلیم کرنے کے لیے اپنی اب تک کی "سب سے جامع” حکمت عملی پیش کریں گے، جس میں یہ بھی شامل ہو گا کہ فلسطین کو تسلیم کرنے کے لیے کن شرائط کا پورا ہونا ضروری ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ وہ غزہ میں قحط سے نمٹنے کے لیے امداد کی ترسیل بہتر بنانے کے حوالے سے برطانیہ کی کوششوں پر بھی بات کریں گے۔
تاہم "ٹیلی گراف” کا کہنا ہے کہ لندن کی جانب سے فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنا جنگ بندی اور قیدیوں کی رہائی سے مشروط رہے گا۔غزہ میں مصائب ختم کرنے کے لیے اقدامات
پیر کے روز اسٹامر کے دفتر نے اعلان کیا کہ برطانوی وزیر اعظم اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان ملاقات ہوئی ہے، جس میں دونوں رہنماؤں نے غزہ میں مصائب ختم کرنے کے لیے فوری اقدامات کی ضرورت پر زور دیا۔اسکاٹ لینڈ میں ہونے والی اس ملاقات کے بعد جاری کیے گئے بیان میں کہا گیا "دونوں رہنماؤں نے غزہ میں ہول ناک مناظر پر گفتگو سے آغاز کیا، اور اس بات پر اتفاق کیا کہ ایسی ناقابلِ برداشت سطح تک پہنچ جانے والی تکالیف کو ختم کرنے کے لیے فوری اقدام ضروری ہے۔”
بیان کے مطابق "انسانی امداد کی بڑے پیمانے پر اور فوری رسائی کی اجازت دی جانی چاہیے۔ دونوں رہنماؤں نے مصیبت اور بھوک کے خاتمے کے لیے مل کر کام کرنے اور باقی ماندہ قیدیوں کی فوری رہائی کے لیے دباؤ جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا۔”اسٹامر اور ٹرمپ دونوں نے ایک بار پھر غزہ میں فوری جنگ بندی کی اپیل دہرائییاد رہے کہ فرانسیسی صدر ایمانویل ماکروں نے جمعرات کو اعلان کیا تھا کہ فرانس ستمبر میں اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے دوران فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا








