پٹنہ :(آر کے بیورو)
ذات پات کے غیرانسانی نظام کی لعنت سے ہندودھرم آج بھی نجات نہیں پاسکا ہے۔یہ ایسی کڑوی سچائی ہے جس کو ہندوتوا کی دبیز چادر بھی نہیں ڈھانپ سکی۔ اس کا مظاہرہ دلتوںکے کنویں سے پانی بھرنے، اس کے گھوڑی چڑھنے، مونچھیں رکھنے، غیر برادری میں اس کے شادی کرنے کے بدترین انجام سے ظاہر ہوتا ہے ۔ایسا ہی ایک نظارہ گزشتہ دنوں کیمرے کی آنکھ میں قید ہوگیا ،یہ واقعہ بہار کا ہے۔
مونگا والی اسمبلی حلقہ کے برکھیڑا جمال گاؤں میں کھانے کے دوران یہ تصویرلی گئی، اس میں ریاست کے وزیر بھوپیندرسنگھ،بی جے پی کے ودیشا ضلع کے صدرتورن سنگھ خانگی کے ساتھ اشوک نگر کے ممبر اسمبلی گوپی لال جاٹو بھی کھانا کھارہے ہیں (بائیں سب سے کنارے)سبھی مہمانوں کو تھالی میں کھانا پروسا گیا، مگر گوپی لال جاٹو کو پتے میں دیا گیا کیونکہ وہ جاٹو ہیں یہ معمولی لیڈر نہیں،پانچ بار ایم ایل اے رہے ہیں ،بہت سینئر ہیں، مگر ان کی اوقات کیا ہے وہ تصویر میں نظر آرہا ہے۔ان کو تھالی کے لائق بھی نہیں سمجھا گیا۔
عینی شاہدین کا کہنا ہے حد تو یہ ہے کہ جب وہ انتخابی مہم میں جاتے تو اپنا گلاس ساتھ لے جاتے، کہیں پیاس لگتی تو اسی گلاس میں پانی پیتے ۔اعلیٰ ذات والے پانی اپنے برتن میں نہیں دیتے کیونکہ وہ ہندو متھالوجی کے مطابق اچھوت ہیں حالانکہ چھوا چھات قابل تعزیر جرم ہے ۔









