نئی دہلی(پریس ریلیز)
جسم کے مدافعتی نظام کی تقویت و اصلاح آیوش سسٹم کی اہم خوبیوں میں سے ہے اور یہ کووڈ۔19 وبا کے خلاف جنگ میں بہت اہم ثابت ہوئی، یہ بات پروفیسر (ڈاکٹر) افشار عالم، وائس چانسلر، جامعہ ہمدرد، نئی دہلی نےسنٹرل کونسل فار ریسرچ اِن یونانی میڈیسن (سی سی آر یو ایم)، وزارت آیوش، حکومت ہند کے زیر اہتمام ’کووڈ 19 وبا۔ تجربات اوراسباق‘کے موضوع پر 15-21 دسمبر 2021 کے دوران منعقد کئے جارہے پانچ ویبینارکی ایک سیریز کا افتتاح کرتے ہوئے کہی۔ پروفیسر عالم نے مزید کہا کہ جیسے ہی کووڈ۔19کی وبا پھیلی صحتی نظام تنگ پڑ گیا اور ایسے میں آیوش سسٹم نے جسم کے مدافعتی نظام کی تقویت کی تدابیر کے ذریعہ اہم کردار ادا کیا کیونکہ اس بیماری سے تحفظ اور اس کے علاج میں قوت مدافعت بہت اہم ثابت ہوئی۔ انہوں نے کووڈ-۱۹ وبا پر ویبینار سیریز کے انعقاد کے لیے سی سی آر یوایم کی پذیرائی کی۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کے اعلی ادارے کے طور پر سی سی آر یو ایم نے طب یونانی کے حوالے سے تحقیق وترقی میں کافی اہم پیش رفت کی ہے۔
اپنے تعارفی خطاب میں پروفیسر عاصم علی خان، ڈائرکٹر جنرل،سی سی آر یو ایم اورایڈوائزر (یونانی)، وزارت آیوش، حکومت ہند نے کہا کہ سی سی آریو ایم نے کووڈ۔19وبا کے دوران وبا کو پھیلنے سے روکنے کیلئے مختلف سرگرمیوں اور اقدامات کے ذریعہ فعال کردار ادا کیا اور قوت مدافعت میں اضافے سے متعلق تدابیرپرمبنی ایڈوائزری جاری کی۔انہوں مزید کہا کہ کووڈ۔19سے متعلق کئی طبی تحقیق بھی کئے گئے اورSARS-COV-19وائرس کے خلاف In-silicoتحقیقات کے ذریعہ چار یونانی دواؤں کی افادیت کا جائزہ لیاگیا۔
’کووڈ-19وباکے دوران کی سیکھ‘ کے موضوع پرسیریز کے پہلے ویبینارمیں خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر جگل کشور، پروفیسر اور صدر، شعبہ کمیونٹی میڈیسن، صفدرجنگ اسپتال، نئی دہلی نے وبا سے نمٹنے کے لیے تشکیل دی گئی وزارتی کمیٹیوں کے رکن کے بطور اپنے تجربات بیان کیے۔انہوں نے درپیش مختلف چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے مختلف اقدامات کی وضاحت کی اور بیماری پر قابو پانے کے لیے امراض کی نگرانی کیلئے مضبوط نظام، کمیونٹی کی شمولیت اور دماغی صحت کے تحفظ کی حکمت عملی پر زور دیا۔ انہوں نے وبا جیسے حالات سے نمٹنے کے لیے آیوش نظام کے انضمام کابھی مشورہ دیا۔
ڈاکٹر آر کے منچندا، ڈائریکٹر، آیوش ڈائریکٹوریٹ، حکومت دہلی نے کووڈ 19 وبا کے دوران ریاستی سطح پر آیوش اداروں کے ذریعہ صحت کی دیکھ بھال کے حوالے سے کئے گئے مختلف اقدامات کا جائزہ پیش کیا۔ انہوں نے پروٹوکول، مشاہدات اور آیوش سسٹم بالخصوص طب یونانی سے متعلق مختلف تحقیقی مطالعات کے نتائج پیش کئے۔ انہوں نے ڈاکٹر پارس وانی اور ڈاکٹر نعمان سلیم کو بھی مدعوکیا کہ وہ کووڈ-19 سے متعلق مطالعات میں بطور یونانی ماہر اور تفتیش کار اپنے تجربات شیئر کریں۔ ڈاکٹر منچندا نے وباکی نئی صورتوں سے نمٹنے کے لیے مستقبل کے لائحہ عمل پر بھی تبادلہ خیال کیا۔
ویبینار کے ماڈریٹرپدم شری ڈاکٹر ایم اے وحید، سابق ڈائریکٹر، این آر آئی یو ایم ایس ڈی، حیدرآباد نے کہا کہ وباجیسے حالات سے نمٹنے کے لیے طب یونانی اور دیگر روایتی طبی نظاموں پر مزید تحقیق کی ضرورت ہے۔ انہوں نے ویبنار کی کارروائی کی ستائش کی اورکووڈ۔19 وبا پر ویبنار سیریز کے انعقاد پرسی سی آریوایم کو مبارکباد پیش دی۔
ڈاکٹر غزالہ جاوید، ریسرچ آفیسر (یونانی) سائنٹسٹ-IV، ڈاکٹر فرح احمد، ریسرچ آفیسر (یونانی)اور محمد نیاز احمد، ریسرچ آفیسر (پبلیکیشن)، سی سی آریوایم نے ویبینار کے انتظام و انصرام کی ذمہ داری نبھائی۔
سیریز کے دیگرویبنارکے ذیلی موضوعات ”صحت کو برقرار رکھنے میں غذا کا کردار“، ”کووڈ۔19مریضوں کاعلاج: تجربہ کا اشتراک‘‘، ”کووڈ۔19 کے دوران اور اس کے بعد دماغی صحت کی دیکھ بھال“ اور ”کووڈ کے بعد کی پیچیدگیاں اور دیکھ بھال“ ہیں۔ ان ویبنار کو آیوش اور جدید طبی نظام کے نامور ماہرین خطاب کریں گے۔









